اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 170 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 170

170 نماز کے بعد بھی دیا کرتے تھے۔میں اس درس میں بھی شامل ہوا کرتا تھا۔میں نے ایک دن حضرت میاں محمد عبد اللہ خان صاحب اور میاں عبدالرحیم خان صاحب خالد کو بھی درس میں شامل ہونے کی تحریک کی۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے جو شام کے بعد بچوں کو گھر سے نکلنے کی اجازت دینے کا خیال بھی نہ کر سکتے تھے۔مجھے پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے ان دونوں صاحبزادوں کو اس شام کے درس میں شامل ہونے کی اجازت دے دی۔اس وقت قادیان کی زندگی نہایت غریبانہ زندگی تھی اور درس کی اس مجلس کیلئے نہایت معمولی ایک آدھ لیمپ ہوا کرتا تھا۔درس میں حاضری کی دوسری شام کو ہی میاں محمد عبد اللہ خان صاحب اپنی کوٹھی سے گیس کا ایک لیمپ لے آئے حضرت خلیفتہ اسیح اول رضی اللہ عنہ نے جب گیس کی وہ سفید اور خوشنما روشنی دیکھی تو حضور نہایت خوش ہوئے اور بار بار فرماتے کہ آج تو ہمارا دل باغ باغ ہو گیا ہے اور نواب صاحب کے ان دونوں صاحبزادوں کو بہت دعائیں دیں۔انہی دنوں درس کی اس مجلس میں ایک عجیب وغریب واقعہ ہوا۔حضرت خلیفہ المسیح اول رضی اللہ عنہ حضرت شاہ عبدالرحیم دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے تعلق باللہ کے کچھ واقعات سنا رہے تھے۔ان واقعات میں حضور نے یہ ذکر بھی فرمایا کہ ایک دن مجلس میں بیٹھے ہوئے شاہ عبدالرحیم صاحب کو الہام ہوا کہ تم حاضرین مجلس کیلئے دعا کرو۔تو یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔یہ بات بیان کر کے پاک مسیح کے صدیق نے فرمایا کہ خدا نے اس وقت مجھے بھی فرمایا ہے کہ تم اس مجلس کے حاضرین کیلئے دعا کرو تو یہ سب بھی جنت میں جائیں گے۔اس کے بعد حضور نے دعا فرمائی۔اس شام کی اس مجلس کی کیفیت کا کچھ وہی لوگ اندازہ کر سکتے ہیں۔جو اس مجلس میں حاضر تھے اس مجلس میں حضرت میاں محمد عبد اللہ خان صاحب بھی شامل تھے اور صوفی محمد ابراہیم صاحب بھی۔ان دنوں میاں صاحب مرحوم مغفور قرآن کریم کے درسوں میں شامل ہونے کے علاوہ نہایت با قاعدگی سے پانچ وقت نماز کیلئے مسجد نور میں حاضر ہوتے تھے۔اور تہجد کی نماز بھی پڑھتے تھے۔یہ ان کے بچپن کے زمانہ کے واقعات ہیں۔ابھی آپ آٹھویں جماعت میں ہی پڑھتے تھے کہ علی گڑھ کے کسی رئیس کی دو بیٹیوں کے ساتھ ان کے اور ان کے بڑے بھائی میاں عبدالرحمن خان صاحب مرحوم و مغفور کے رشتہ کا معاملہ چھڑا۔اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ علی گڑھ جانے کیلئے ان دونوں صاحبزادوں کیلئے لباس بھی تیار کروالیا