اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 158 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 158

158 30۔تاثرات مرزا طاہر احمد صاحب ہیں۔مکرم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ابن حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی رقم فرماتے ” میرے چھوٹے پھوپھا جان کی طبیعت بہت سادہ تھی۔اور مزاج تصنع سے پاک، چہرے پر غمی اور خوشی کے آثار بچوں کی طرح بے روک ٹوک ظاہر ہوتے تھے۔باغوں اور پھولوں سے بہت پیار تھا۔جہاں بھی جا کر رہے آپ نے اپنے گھر میں ایک چھوٹا سا چمن بنالیا۔سندھ میں آپ کی اراضی پر آپ کا سادہ سامکان اس پہلو سے دیکھنے کے لائق تھا۔بیسیوں قسم کے پھولدار پودوں نے صحن کو ایسا مزین کر رکھا تھا کہ باہر کے ماحول کی عام ویرانی کے بعد چار دیواری میں داخل ہوتے ہی یوں محسوس ہوتا تھا گویا انسان کسی اور ملک کسی اور دنیا میں داخل ہو گیا ہو۔گھر کی زیبائش اور تزئین کا بہت شوق رکھتے تھے۔اپنی آخری علالت میں بعض دفعہ گھنٹوں اپنی پہیہ دار کرسی پر بیٹھے گملا گلا گھوم کر پھولوں کا معائنہ کرتے رہتے۔گھاس کے پلاٹ ادلتے بدلتے کبھی کوئی گملا یہاں سے اٹھوا کر وہاں رکھوا دیا۔کوئی وہاں سے یہاں۔فیصلہ میں جلدی کرتے تھے۔مگر فیصلہ پر اطمینان دیر سے پاتے تھے۔چنانچہ فیصلہ کرنے کے بعد بھی مشورے جاری رہتے۔کئی دفعہ دیکھا کہ پلاٹ کی شکل تبدیل کرنے کا حکم آپ جاری کر چکے ہیں۔مگر مشورہ کا سلسلہ ختم نہیں ہورہا۔غالباً مقصد یہ ہوتا تھا کہ تائید کرنے والے زیادہ ہوں تو دل کو اطمینان نصیب ہو کہ جو قدم اٹھایا تھا درست تھا۔نماز کے عاشق تھے خصوصاً نماز با جماعت کے قیام کیلئے آپ کا جذ بہ اور جد و جہد امتیازی شان کے حامل تھے۔بڑی باقاعدگی سے پانچ وقت مسجد میں جانے والے، جب دل کی بیماری سے صاحب فراش ہو گئے۔تو اذان کی آواز کو ہی اس محبت سے سنتے تھے جیسے محبت کرنے والے اپنی محبوب آواز کو۔جب ذرا چلنے پھرنے کی سکت پیدا ہوئی تو بسا اوقات گھر کے لڑکوں میں سے ہی کسی کو پکڑ کر آگے کھڑا کر دیتے اور باجماعت نماز ادا کرنے کے جذبہ کی تسکین کر لیتے یا رتن باغ میں نماز والے کمرہ کے قریب ہی کرسی سرکا کر باجماعت نماز میں شامل ہو جایا کرتے۔جب ماڈل ٹاؤن والی کوٹھی لی۔تو وہیں پنجوقتہ باجماعت نماز کا اہتمام کر کے گویا گھر کو ایک قسم کی مسجد بنالیا۔پانچ وقت اذان دلواتے۔موسم کی مناسبت سے کبھی باہر گھاس کے میدان میں کبھی کمرے کے اندر چٹائیاں بچھوانے کا اہتمام