اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 136 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 136

136 رہے گی۔چنانچہ دونوں نے یہ تجویز قبول کر لی اور میرے ذریعہ ہی ٹھیکہ کی تکمیل ہوئی۔واپسی پر آپ مجھے لاہور لے گئے اور ایک ماہ اپنے پاس رکھ کر مجھے واپسی کی اجازت دی اور ایک ماہ میں میرے نام مختار نامہ بھجواتے ہوئے تحریر کیا کہ میں بھروسہ کر کے مختار نامہ بھجواتا ہوں۔اگر انکار کرو گے تو میری پریشانیوں میں اضافہ ہوگا۔سو اس وقت سے میرے سپرد یہ خدمت ہے۔آپ شدید تکلیف میں بھی اُف، ہائے وغیرہ نہ کہتے۔فرماتے حضرت بیگم صاحبہ کو میری تکلیف سے بھی بڑھ کر تکلیف ہوتی ہے۔جون یا جولائی 1961ء میں ایک شام آپ کو شدید پیٹ درد ہوگئی آپ نے اپنے پاس مجھے ٹھہر نے کو کہا ایک ایک منٹ بعد بے چینی سے آپ کروٹ لیتے۔کبھی ایک کبھی دوسری دوائی استعمال کرتے اور فرماتے کہ آہٹ نہ ہو۔مبادا بیگم صاحبہ بیدار ہو جائیں۔مجھے بار بار کہتے کہ سو جاؤ۔مجھے بھلا نیند کیسے آتی۔بالآخر تین بجے آپ کو نیند آئی۔تو میں بھی فرش پر پاس ہی سو گیا تا کہ عند الضرورت جلد بیدار ہو جاؤں۔پھر نماز فجر کے وقت باہر چلا گیا۔آپ 8 بجے کے قریب بیدار ہوئے تو خادمہ سے میرے متعلق دریافت کیا اور فرمایا کہ وہ ساری رات جاگتے رہے ہیں اس نے کہا کہ وہ ناشتہ کر رہے ہیں۔چند گھنٹے بعد مجھے بلایا اور کہا کہ میری راتیں اکثر ایسی گزرتی ہیں۔آپ اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ میری زندگی کا کیا اعتبار ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ ایسی حالت میں مجھے اگر زندگی کی خواہش ہے تو صرف اور صرف اس لئے ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ مہلت دے تو بقیہ زندگی بیگم صاحبہ کی خدمت کر کے ان کی خدمت کا کچھ صلہ ادا کرسکوں۔میرے بعد ان کی خدمت میں کو تا ہی نہ کی جائے۔میرا چار ماہ قیام رہا۔آپ اور حضرت بیگم صاحبہ کے منشاء کے مطابق کہ اراضی کا کام ضروری ہے۔16 اگست کو مجبوراً میں سندھ روانہ ہوا۔اور 19 ستمبر کو ربوہ میں آپ کی تابوت میں زیارت ہوئی۔اللہ تعالیٰ آپ کو اعلی علیین میں جگہ دے اور آپ کے پسماندگان کا حافظ و ناصر ہو۔آمین آپ کو خاندان حضرت مسیح موعود سے والہانہ عشق تھا۔شیر خوار بچہ تک کی آپ عزت کرتے۔آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے۔کہ حضرت والد صاحب کے ذریعہ قادیان سے روحانی تعلق قائم ہوا جبکہ غیر احمدی اقارب لہو و لعب میں مشغول ہیں اور دین کی ان کو پرواہ نہیں۔حضرت بیگم صاحبہ نے جو آپ کی خدمت کی تھی۔آپ اس کے بے حد شکر گزار تھے اس کا ذکر کر کے آپ پر رقت طاری ہو جاتی تھی۔بیگم صاحبہ کی شب و روز کی خدمت اور علاج معالجہ میں جدو جہد میں کسی قسم کی کمی با وجود