اصحاب احمد (جلد 12) — Page 127
127 باغ میں ٹہلتے ہوئے روایات و واقعات سناتے۔بعض دفعہ از خود بھی سوالات کر لیتا۔اور جوابات کے مختصر نوٹ لے لیتا اور گھر پر تفصیلاً قلمبند کر کے اگلے روز سنا دیتا۔آپ میں میں نے بزرگا نہ شفقت اور برادرانہ بے تکلفی پائی۔آپ کی ملاقات سے مجھے سکون قلب حاصل ہوتا۔کافی دنوں تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ایک بار جامعہ احمدیہ سے جہاں میں لیکچرار تھا گزرتے ہوئے آپ نے مجھے اگلے روز فارغ گھنٹی میں بمعیت مکرم ملک غلام فرید صاحب ناشتہ کرنے کو کہا۔ہم گئے اور ہماری تو اضع ہوئی۔گو آپ کسی ضرورت کے ماتحت صبح ہی قادیان سے باہر سفر پر چلے گئے تھے۔میری اہلیہ امتہ اللہ بیگم صاحبہ سناتی ہیں۔کہ میں قادیان سے پاسپورٹ پر پاکستان گئی واپسی پر لاہور میں ایک دن قیام ضروری تھا۔میرے عرض کرنے پر کہ جو دھامل بلڈنگ میں قیام کا مناسب انتظام نہیں۔حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ نے بخوشی اجازت دے دی تھی کہ ان کے پاس رتن باغ میں ٹھہر جاؤں چنانچہ میں بچوں سمیت پہنچی۔تو پہلے محترم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب سے ملاقات ہوگئی۔آپ نے اسی وقت ایک کمرہ کا انتظام فرما دیا اور یہ بھی فرمایا کہ آپ نے نواب مبارکہ بیگم صاحبہ سے نہ بھی پوچھا ہوتا۔تب بھی آپ کے قیام کا انتظام میں کر دیتا۔باجود یکہ اگلے روز ایک بچہ منٹگمری سے آتا ہوا کھانا لے آیا۔لیکن آپ نے باصرار مہمان نوازی کی۔اور بہت شفقت کا سلوک کیا۔ان دنوں ابھی آپ پہیوں والی کرسی پر کمروں میں گھومتے تھے۔اسی طرح حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے بھی مہمان نوازی کی۔فَجَزَاهُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاء خاکسار 1955ء میں جبکہ کرکٹ کے موقع پر پرمٹ کھلے قادیان سے لاہور پہنچا۔آپ سے رتن باغ میں ملاقات ہوئی۔بغیر میرے عرض کرنے کے آپ نے اصحاب احمد کی مالی حالت کے متعلق فکر مندی ظاہر کر کے فرمایا کہ میں آپ کو بعض افراد کے پاس لے چلتا ہوں اور انہیں خریداری کی تحریک کرتا ہوں۔چنانچہ آپ موٹر میں بعض احباب کے پاس لے گئے ایک جگہ پہنچتے ہی آپ نے ڈبہ میں سے کو رامین لے کر پی لی۔حالانکہ آپ کی یہ حالت تھی کہ آپ فرماتے تھے میں ابھی چند منٹ سے زیادہ کھڑ انہیں ہو سکتا۔کہ دل کو تکلیف ہونے کا خطرہ ہے اور کورامین میں ساتھ رکھتا ہوں۔جب بھی ذرا خطرہ محسوس کروں پی لیتا ہوں۔آپ باوجود صحت کی کمزوری کے ہمیشہ اپنے ہاتھ سے خطوط کا جواب عنایت فرماتے تھے۔اپنے والد ماجد کی طرح آپ کی املاء بہت دلکش ہوتی تھی۔ایک دفعہ آپ نے میری امداد کی خاطر مجھ سے اصحاب احمد کی کچھ جلد میں فروخت کرنے کیلئے