اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 123 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 123

123 اولاد سے شدید محبت کرنے والے باپ تھے۔اپنے اہل کے ساتھ نہایت نیک اور احترام والا سلوک کرتے تھے۔میں نہایت وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ کی حدیث خَيْرُ كُمُ خَيْرُكُمْ لِاهْلِہ ان پر چسپاں ہوتی ہے۔طبیعت میں شکر کا مادہ بے انتہاء تھا۔ہر حال میں اور ہر وقت خدا تعالیٰ کا شکر اور اس کی نعمتوں کا ذکر کرتے رہتے تھے۔میرا ذاتی خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو دنیوی طور پر اتنا نوازا اس کی وجہ ان کی شکر مند طبیعت تھی۔لَئِن شَكَرْتُمْ لَا زِيدَنَّكُمْ کے راز کو انہوں نے خوب سمجھ لیا تھا اور یہی ان کی دنیوی فراوانی کی کلید تھی۔بیالیس سال کے مشاہدہ کو چند صفحوں میں بند نہیں کیا جا سکتا۔میں ایک حدیث قدسی لکھ کر اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں۔حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔اللہ تعالی سات شخصوں کو اپنے سایہ میں لے گا۔اس دن کہ جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔(1) حاکم عادل (2 ) وہ جوان جو اپنی عبادت میں بڑھا ہوا ہو۔(3) وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہو۔(4) وہ دو شخص کہ جب جمع ہوں تو اس کیلئے اور جب جدا ہوں تو اس کیلئے (5) وہ شخص جو چھپا کر صدقہ دے یہاں تک کہ اس کے بائیں ہاتھ کو معلوم تک نہ ہو کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔(6 ) وہ شخص جس کو کوئی معزز اور با جمال عورت زنا کیلئے بلائے اور وہ یہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔(7 ) جو شخص خلوت میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں۔میں نے آپ میں اس حدیث کی اکثر صفات پائیں۔مجھے اللہ تعالیٰ سے کامل امید ہے کہ اس دن وہ اللہ تعالیٰ کے سایہ میں ہوں گے۔جس دن کہ اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔اور اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت اور اپنے فضلوں سے ڈھانپ لے گا۔اور وہ قیامت کے دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں اور اپنے مطاع محمد مصطفی ﷺ کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہوں گے۔9 - بیان حکیم محمد عمر صاحب (الفضل یکم نومبر 1961ء) حکیم محمد عمر صاحب صحابی بیان کرتے ہیں۔کہ مرحوم کے دل میں صحابہ کا بہت احترام تھا۔مجھے ایک جنازہ میں آپ نے دیکھ لیا کہ پاؤں میں تکلیف ہے تو اپنی موٹر میں مجھے گھر پہنچایا اور حالات