اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 121 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 121

121 ان کا بجز ، یقین کامل دیکھ کر بغیر اسباب کے کامیابی عطا فرمائی۔آپ مسنون اور دوسری دعاؤں میں ہمیشہ لگے رہتے تھے۔آپ نے اپنی کامیابی کا گر ہمیشہ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم کو ہی سمجھا۔ایک دفعہ ان کی سندھ کی زمینوں کی آمد کا ذکر ایک بزرگ کے سامنے ہوا۔تو انہوں نے فرمایا۔تم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ان کے پاس جو گر ہے وہ تمہارے پاس نہیں۔یعنی دعا کا حربہ وہ تو اگر مٹی کو بھی ہاتھ لگائے تو سونا کر دے گا۔اپنے مطاع سید نا حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت ہی نہیں بلکہ عشق تھا کثرت سے حضور پر درود بھیجتے اور اپنے مخدوم کی اتباع کی انتہائی کوشش کرتے رہتے تھے تا آپ کا ہر عمل قرآن وسنت رسول اور حدیث کے مطابق ہو اور اس پر نہایت شدت اور استقلال کے ساتھ عمل کرتے تھے۔سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد آپ کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق تھا اور آپ نے حضور کی تعلیم اور اتباع کو ہی ذریعہ نجات سمجھا۔آپ قرآن مجید کی کثرت سے اور ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے تھے۔خصوصاً قرآن الفجر نہایت خشوع اور الحاج سے پڑھتے۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ ہر لفظ پر غور کیا جا رہا ہے اور ہر لفظ سے دل گداز ہو رہا ہے۔حضرت خلیفتہ امیج اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے قرآن مجید کے درسوں میں باقاعدہ شامل وتے رہے تھے۔قرآن مجید کا علم ان بزرگوں کی صحبت اور فیض کی وجہ سے بہت وسیع تھا پھر بھی سلسلہ کے کسی نہ کسی عالم کو اپنے پاس رکھ لیتے اور اس کے ساتھ قرآن مجید ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ ہو۔دہراتے رہتے تھے۔نماز ہمیشہ نہایت خشوع اور حضور قلب کے ساتھ یوں ادا کر تے تھے گویا فرمان نبوی گانگ تراہ کے پورے مصداق نماز با جماعت کیلئے سفر و حضر میں بے حد کوشش فرماتے۔آپ جب سندھ گئے۔تو پہنچتے ہی مستقل طور پر نماز با جماعت کا التزام فرمایا اور اسی مقصد کیلئے اپنے ہمراہ حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب کو بھی لے گئے تھے۔تا کہ نیکی اور تقویٰ کا ماحول قائم رہے۔اپنی آخری عمر اور بیماری میں بھی آپ کی ہمیشہ کوشش رہی کہ نماز باجماعت پڑھیں اور پڑھائیں اکثر سخت بیماری کے باوجو د بھی نماز میں شامل ہو جاتے تھے۔واقعی آپ فرمان نبوی کے مطابق ان لوگوں میں سے تھے کہ جن کا دل مسجد میں لگتا تھا۔آپ تہجد کی نماز نہایت التزام سے پڑھتے تھے۔سوز اور رقت کی وجہ سے ان کی آواز اکثر سنائی دیتی تھی۔