اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 45 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 45

45 وو والدہ صاحبہ کو ہر عزیز سے جدائی بہت شاق گزرتی تھی۔لیکن خاکسار سے جُدائی کا برداشت کرنا انہیں بہت دشوار ہو جایا کرتا تھا۔۱۹۰۷ء میں جب خاکسارانٹرنس کا امتحان پاس کر کے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوا اور پہلی دفعہ لمبے عرصہ کے لئے گھر سے باہر رہنا پڑا تو والدہ صاحبہ نے اصرار کیا کہ میں ہر ہفتہ اُن کی خدمت میں حاضر ہوا کروں۔لیکن چونکہ ہر ہفتہ لاہور سے سیالکوٹ جانا مشکل تھا۔اس لئے خاکسار اوسطاً ہر دوسرے ہفتہ اُن کی خدمت میں حاضر ہو جایا کرتا تھا۔ہر دفعہ واپس جاتے وقت تاکید فرمایا کرتی تھیں کہ لاہور پہنچتے ہی اپنے بخیریت لاہور پہنچ جانے کی اطلاع دینا۔خاکسار پر انہیں حسنِ ظن بھی تھا۔۱۹۱۰ء کی گرمیوں کی تعطیلات میں خاکسار بی۔اے کے امتحان کی تیاری کے لئے ایبٹ آباد چلا گیا۔تعطیلات کے آخری حصہ میں رمضان کا مہینہ آ گیا۔جب خاکسار تعطیلات کے آخر میں سیالکوٹ واپس پہنچا تو والدہ صاحبہ نے خاکسار سے کہا کہ تمہارے والد تو قیاس کرتے تھے کہ تم نے روزے نہیں رکھے ہوں گے۔لیکن میں باصرار کہتی رہی کہ میرے بیٹے نے ضرور روزے رکھے ہوں گے۔اب بتاؤ۔ہم دونوں میں سے کس کا قیاس درست تھا۔میں نے عرض کی کہ آپ کا قیاس درست تھا۔میں نے اللہ تعالی کے فضل سے تمام روزے رکھے ہیں بلکہ آج بھی باوجو دسفر کے میرا روزہ ہے ( اس وقت خاکسار کی عمر ۱۷ سال تھی۔ابھی خاکسار پر یہ واضح نہیں تھا کہ سفر کے دن رمضان کا فرض روزہ نہیں رکھنا چاہیئے )۔1911ء میں خاکسار نے بی۔اے کا امتحان پاس کیا اور والد صاحب کی یہ خواہش ہوئی کہ خاکسار کو مزید تعلیم کے لئے انگلستان بھیجا جائے۔ان کی ہدایت کے ماتحت خاکسار نے حضرت خلیفہ اصیح اول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عریضہ لکھا اور والد صاحب کی خواہش کے مطابق انگلستان جانے کے لئے حضور سے اجازت طلب کی۔حضور نے ہدایت دی کہ والد صاحب اور خاکسار دونوں استخارہ کریں۔استخارہ کے بعد اگر طبیعت میں اطمینان ہو تو خاکسار انگلستان چلا جائے۔چنانچہ ہم دونوں نے استخارہ کیا۔اور کوئی امر مانع نہ پا کر خاکسار نے والد صاحب کی ہدایت کے ماتحت انگلستان کے سفر کی تیاری شروع کر دی۔دو والدہ صاحبہ کو خاکسار سے اس قدر لمبی جدائی گوارا نہ تھی۔اور اُن کی یہ خواہش تھی کہ کوئی ایسا فیصلہ خاکسار کی آئندہ تعلیم کے متعلق ہو جائے جس کے نتیجہ میں خاکسار کو اتنا لمبا سفر نہ اختیار کرنا