اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 44 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 44

44 قادیان آئے۔اس موقعہ پر میں غالباً دو دن قادیان ٹھہرا اور حضرت خلیفہ امسیح اول رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے کے بعد لاہور واپس چلا گیا۔ان ایام کے احساسات اور قلبی کیفیات کا سپر د قلم کرنا میرے جیسے انسان کے لئے مشکل ہے۔“ تعلیمی حالت :۔ہے۔سیالکوٹ سے میٹرک پاس کر کے آپ نے بی، اے (آنرز ) گورنمنٹ کالج لاہور سے پاس کیا اور انگلستان سے قانون کی سند حاصل کی۔قرآن مجید ناظرہ آپ نے حضرت مولوی فیض الدین صاحب امام مسجد احمد یہ کبوتر انوالی سے اس مسجد میں پڑھا اور ترجمہ کا اکثر حصہ حضرت والد صاحب سے۔کچھ تعلیمی کوائف آپ کی قلم سے سنئے۔والدہ ماجدہ سے آپ کی محبت ، اور ان کی مثالی اطاعت ہمارے لئے سبق آموز ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔وو والدہ صاحبہ کا دل نہایت ہی نرم اور شفیق تھا۔اور خاص طور پر خاکساراس شفقت کا مورد تھا۔کچھ تو اس لحاظ سے والدہ صاحبہ کو خاکسار کے ساتھ خاص اُنس تھا کہ پانچ بچوں کی وفات کے بعد خاکسار کو اللہ تعالیٰ نے رُشد تک پہنچنے کی مہلت عطا فرمائی۔اور کچھ اس وجہ سے کہ چھوٹی عمر میں ہی خاکسار کو آشوب چشم کا عارضہ ہو گیا۔اور اس کی کیفیت یہ ہوگئی کہ دس سال کی عمر سے لے کر سولہ سال کی عمر تک گرمیوں میں خاکسار بہت کم باہر نکل سکتا تھا۔اور بعض دفعہ ہفتوں اندھیرے کمرے میں گزارنے پڑتے تھے۔اس تمام عرصہ میں والدہ صاحبہ اکثر خاکسار کے ساتھ رہا کرتی تھیں۔اس طرح خاکسار کو اُن کی صحبت بھی خصوصیت سے میسر آتی رہی۔اور پھر دل را بدل رہیست‘ کے ماتحت خاکسار کو بھی معمول سے بڑھ کر اُن کے ساتھ محبت ہوتی گئی۔یوں تو اُن کا دل محبت اور شفقت کا ایک جاری چشمہ تھا۔جو اپنے اور پرائے کا امتیاز نہ جانتا تھا۔اور اپنے تمام متعلقین اور خصوصیت سے اپنی تمام اولاد کے ساتھ تو انہیں محبت کا گہرا تعلق تھا۔لیکن خاکسار کے اور والدہ صاحبہ کے درمیان جو رشتہ تھا۔اُس کی کیفیات کو ہمارے دو دل ہی جانتے تھے۔جنازہ مبارک کے ہمراہ ریل پر لاہور سے روانہ ہونے والے خدام میں سے بعض کے اسماء جو وو مرقوم ہیں، ان میں ”مسٹر تیمور اور ظفر اللہ بھی شامل ہیں۔