اصحاب احمد (جلد 11) — Page 38
38 ضلع لاہور کے امیر کے طور پر باحسن طریق خدمات سرانجام دینے کا موقع مل رہا ہے۔وذالک فضل الله يؤتيه من يشاء۔چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی قبول احمدیت و روایات: محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے تعلیمی کوائف سے قبل قارئین کرام آپ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت ، قادیان میں آمد، بیعت وغیرہ کے کوائف آپ کے اپنے الفاظ میں پڑھیں۔فرماتے ہیں : میں ان دنوں سکول میں پڑھا کرتا تھا۔لیکن مدرسہ کی پڑھائی کے علاوہ میرے والد صاحب قرآن کریم کے با تر جمہ پڑھنے کے لئے مجھے ایک مولوی صاحب کے پاس بھیج دیا کرتے تھے۔اس دوران میں آہستہ آہستہ یہ چرچا ہونے لگا کہ میرے والد صاحب احمدیت کی طرف رجحان رکھتے ہیں۔اور شائد احمدی ہو جائیں گے۔جن مولوی صاحب کے ہاں میں قرآن کریم کا ترجمہ سیکھنے کے لئے جایا کرتا تھا۔ان کے شاگردوں میں بھی کبھی کبھی یہ ذکر آ جاتا تھا اور دُوسرے طالب علم مجھے طنزاً کہا کرتے تھے کہ تمہارے والد صاحب مرزائی ہونے والے ہیں۔میں اُن کو یہ جواب دیا کرتا تھا کہ یہ دین کا معاملہ ہے۔اس میں تو میں اپنے مولوی صاحب کے خیالات کی پیروی کروں گا۔اپنے والد صاحب کے خیالات کی پیروی نہیں کروں گا۔شروع ستمبر ۱۹۰۴ء میں میرے والد صاحب مجھے اپنے ہمراہ لاہور لے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان دنوں لاہور ہی میں تشریف رکھتے تھے۔۳ رستمبر کے روز ان کا لیکچر میلا رام کے منڈوے میں ہوا۔والد صاحب مجھے بھی اپنے ہمراہ وہاں لے گئے۔میری عمر اس وقت ساڑھے گیارہ سال کی تھی۔لیکن وہ منظر مجھے خوب یاد ہے۔مجھے سٹیج پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی گرسی کے قریب ہی جگہ مل گئی۔اور میں قریباً تمام وقت آپ ہی کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھتا رہا۔گو معلوم ہوتا ہے کہ میں نے لیکچر بھی توجہ سے سُنا ہوگا۔یا کم سے کم بعد میں توجہ سے پڑھا ہوگا۔کیونکہ اس لیکچر کے بعض حصے اس وقت سے مجھے اب تک یاد ہیں۔لیکن میری توجہ زیادہ تر آپ نے قرآن مجید ناظرہ حضرت مولوی فیض الدین صاحب امام مسجد کبوتر انوالی سیالکوٹ شہر سے پڑھا۔( بحوالہ حیات فیض صفحہ ۳ و ۱۱۔بیان چوہدری عبد اللہ خاں صاحب مرحوم )