اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 350 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 350

350 اللَّهِ تَبدیلا۔اور چونکہ حضور کو اللہ تعالیٰ نے اس منصب کیلئے چن لیا ہے۔اسلئے ہمارا فرض آمَنَّا وَصَدَقنا ہے۔حضور غلام کی بیعت قبول فرماویں۔اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں کہ غلام اس عہد پر اخلاص کے ساتھ قائم رہے اور اسے پورا کرنے کی توفیق دے۔آمین۔حضور پر اسوقت فرائض خلافت اور دیگر افکار کا ہجوم ہو گا۔اسلئے انہی چند سطور پر اکتفاء کرتا ہوں۔امید ہے کہ حضور اس دورافتادہ کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھا کریں گے۔اللہ تعالیٰ اپنی خاص نصرت حضور کے شامل حال کرے۔آمین۔و اسلام - حضور کا غلام - ظفر اللہ خاں۔سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی نظر میں چوہدری صاحب کا معتمد ترین افراد میں سے ہونا ظاہر وباہر ہے۔حضور نے جلسہ سالانہ ۱۹۴۶ء پر تقریر میں فرمایا کہ مولوی محمد علی صاحب ( سر براه غیر مبابعین ) مطالبۂ مباہلہ کے متعلق بہت پراپیگنڈا کر رہے ہیں۔میں شرائط مباہلہ کے طے کرنے کے لئے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کو اپنا نمائندہ مقرر کرتا ہوں۔ممکن ہے اس طریق سے جلد کوئی فیصلہ کی راہ نکل آئے۔** ایک بار ایڈیٹر صاحب الفضل نے چوہدری صاحب کو بذریعہ خط اطلاع دی کہ ”پیغام صلح، بابت ۱۹۴۴۔۱۱۔کی رو سے مولوی محمد علی صاحب نے اپنے خطبہ میں کہا کہ جماعت قادیان میں ( حضرت ) میاں صاحب ( خلیفہ ثانی ایدہ اللہ ) سے دوسرے درجہ پر چوہدری ظفر اللہ خاں ہیں۔بلکہ ایک لحاظ سے وہ ان سے بھی بڑھ کر ہیں۔کیونکہ انہوں نے جماعت کو بڑھانے کے لئے میاں صاحب سے بھی بڑھ کر کام کیا ہے۔مذکورہ بالا خط کے آنے سے قبل ہی الفضل مورخہ ۱۹۱۴۔۵۔۶ میں خلافت ثانیہ سے وابستہ قرار دیا گیا تھا۔جس کا باعث آپ کا سابقہ رویہ تھا: انگلستان میں چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے مسٹر عبداللہ خاں، سید عبدائی صاحب عرب، ملک عبد الرحمن، چو ہدری ظفر الله ان۔۔۔خلیفہ ثانی کے مرید موجود ہیں۔“ ( زیر مدینہ اسیح ) چوہدری صاحب نے مولوی صاحب کے نمائندہ ڈاکٹر غلام محمد صاحب کو خط لکھا لیکن