اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 349 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 349

349 رہے۔اللہ تعالیٰ ان کا اور ہم سب کا بخیر اسپر انجام کرے۔آمین۔خلافت ثانیہ کے آغاز میں آپ کے اخلاص کے باعث یہ توقع تھی کہ آپ بیعت کر لیں گے۔چنانچہ الفضل مورخہ ۱۹۱۴۔۵۔۹ میں مرقوم ہے :۔شاید یہ بات بہت کم احمد یوں کو معلوم ہو گی کہ ولایت میں ہمارے کئی احمدی بھائی ہیں۔اور سوائے خواجہ کمال الدین صاحب اور انکے ایجنٹ شیخ نور احمد صاحب اور چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے سب بیعت کر چکے ہیں۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب غالباً کسی سفر پر ہونگے۔اسلئے اسوقت تک بیعت نہیں کر سکے۔ورنہ خواجہ صاحب کی طرح انکو خلافت سے انکار نہیں۔واللہ اعلم بالصواب۔“ ان کے والد صاحب اور بھائی اور دیگر خاندان کے سب لوگ بیعت کر چکے ہیں۔یہ (یعنی انگلستان کے لوگ اپنی اپنی طاقت کے مطابق تبلیغ کے کام میں لگے رہتے ہیں۔امید ہے کہ انشاء اللہ ہمیں وقتاً فوقتاً ان کی کوششوں کے ذکر کا موقعہ ملے گا (صفحہ ۷) وو وجہ تاخیر صحیح نکلی۔چنانچہ الفضل میں زیر عنوان ” چوہدری ظفر اللہ خاں مرقوم ہے :۔پچھلے ہفتہ ولایت میں بیعت کرنے والوں کی تعداد بتائی گئی تھی۔اور لکھا گیا تھا کہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب بیرسٹرایٹ لاء کا بیعت کا خط ابھی نہیں آیا۔سواب کے ہفتہ کی ڈاک میں ان کا خط بھی آگیا۔جس کا مضمون حسب ذیل ہے : اما منا وسید نا ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔غلام بوجہ تعطیلات ایسٹر ساڑھے تین ہفتوں کا عرصہ انگلستان سے باہر رہا۔حضرت خلیفہ اول کی وفات کی پُر ملال خبر تو یہاں سے رخصت ہونے سے پیشتر مل چکی تھی۔لیکن بعد کے حالات سے اب تک بے خبری تھی۔کیونکہ سفر میں ڈاک ملنے کا انتظام نہ تھا۔آج واپسی پر ہندوستان کی ڈاک ملی جس میں الفضل“ کے پرچے بھی تھے۔جو ابتلاء اسوقت قوم کو پیش آیا ہے۔اس کا خوف تو پیشتر ہی تھالیکن اس قدر فساد کی توقع نہ تھی۔غلام کی ناقص رائے میں تو فیصلے کی کوئی بات ہی نہیں۔خلیفہ بنانا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ