اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 335 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 335

335 نے اشاعت اسلام کے فرض کو پیش نظر رکھا اور ثابت کر دیا کہ جس کے دل میں اسلام کی محبت ہو۔جس کے قلب میں اسلام کی بے نظیر خوبیاں جاگزیں ہوں۔اور جو شخص اسلام کو اپنی دینی و دنیوی کامیابی کا ذریعہ یقین کرتا ہو۔وہ نہ صرف بیحد مصروفیتوں اور سیاسی امور میں سرگرم انہماک کے باوجود ہر جگہ اور ہر موقعہ پر اسلامی فرائض کی ادائیگی سے غافل نہیں ہوسکتا بلکہ وہ دوسروں کو اسلام ایسی نعمت سے بہرہ اندوز کرنے کے لئے کافی وقت نکال سکتا ہے۔”جناب چوہدری صاحب کی اسلام کے متعلق یہ سرگرمیاں جن کا نہایت مجمل طور پر یہاں ذکر کیا گیا ہے۔جہاں جناب موصوف کو تعریف و توصیف کا مستحق قرار دیتی ، اسلام سے انکی محبت اور اخلاص کا ثبوت پیش کرتی اور انہیں سلسلہ احمدیہ کا ایک قابل اور لائق فرزند ثابت کرتی ہیں۔وہاں ہماری جماعت کے نو جوانوں اور خاص کر اعلی تعلیم یافتہ نو جوانوں کے لئے نہایت ہی عمدہ اور قابل تقلید مثال پیش کرتی ہیں۔ہماری جماعت کے نوجوان ایک بار نہیں بلکہ کئی بار حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سن چکے ہیں کہ ہر ایک احمدی کا خواہ وہ دنیوی کا موں کے کسی شعبہ میں مصروف ہو۔اولین فرض یہ ہے کہ تبلیغ احمدیت میں پوری سرگرمی سے حصہ لے۔۔۔ہم جناب چوہدری صاحب کی مثال پیش کرتے ہیں۔گذشتہ چند سال سے جناب چوہدری صاحب کی سیاسی اور ملکی معاملات میں مصروفیتیں جس قدر وسعت اختیار کر چکی ہیں۔ان سے ہماری جماعت خوب اچھی طرح واقف ہے اور خاص کر انگریزی تعلیم یافتہ نوجوانوں پر تو بالکل واضح ہیں اگر چہ یہ مصروفیتیں بھی مذہبی نقطہ نگاہ سے بہت اہم اور ضروری ہیں۔کیونکہ انکی غرض بھی اسلام اور مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت ہی ہے تاہم اس دوران میں خالص مذہبی فرائض کی ادائیگی اور خدمات دین کی سرانجام دہی میں بھی جناب موصوف نے نہ صرف کمی نہیں آنے دی۔بلکہ ان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے روز بروز اضافہ ہی کرتے جارہے ہیں۔آپ کو خدا تعالیٰ نے مالی لحاظ سے بھی سلسلہ کی قابل قدر خدمات ادا کر نے کی توفیق بخشی ہے۔آپ ضروریات سلسلہ کے لئے باقاعدہ اور با شرح چندہ دیتے ہیں اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی فرمودہ ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔تبلیغ اسلام میں اپنے نمونہ اور اپنی قابلیت سے نہایت ہی قابل رشک مثال پیش کر رہے ہیں اور یہ مثال اس قابل ہے کہ ہماری جماعت کا ہر وہ شخص اور خاص کر ہروہ اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص جو اپنے اندر دینی فرائض کی ادائیگی کے متعلق کسی قسم کی کمی اور کوتا ہی پاتا ہو۔اس سے سبق حاصل کرے۔“ ( اللہ تعالیٰ