اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 312 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 312

312 اعتراض کئے گئے ہیں اور حکومت کو بلا وجہ گالیاں دی گئی ہیں ، اس لئے حکومت ہچکچاتی ہے کہ ہائی کورٹ کے احترام میں فرق نہ آئے۔لیکن ایجی ٹیشن دب جائے تو وفد کی ملاقات ناممکن نہیں۔چنانچہ گورنمنٹ نے دوسری تار میں لکھا کہ اگر آپ اپنے خیالات وسیع طور پر مسلمانوں میں پھیلائیں تو مسلمانوں کے لئے نہایت مفید ہوگا۔جس سے ظاہر ہے کہ مسلمان اعتدال کے ساتھ مطالبات پر قائم رہیں تو حکومت انہیں نظر انداز نہیں کرے گی۔(۲۲ / جولائی ۱۹۲۷ء ) پہلے خلافت کمیٹی نے سول نافرمانی کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔حضرت امام جماعت احمدیہ کی مساعی بارآور ثابت ہوئیں اور خلافت کمیٹی نے سول نافرمانی ملتوی کر دی۔حضرت ممدوح نے ۲۲؍ جولائی کے جلسوں میں ایک یہ قرار داد منظور کرنے کی تحریک کی تھی کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری ( بعدہ احراری لیڈر و دشمن احمدیت ) وغیرہ رضا کاران خلافت کو التوائے سول نافرمانی کے باعث فور رہا کر دیا جائے۔لاہور کی شاہی مسجد میں پون لاکھ افراد کے اجتماع کا خلافت کمیٹی کے صدر مولا نا محمد علی جو ہر کی صدارت میں جلسہ ہوا۔جس میں دو قراردادیں ان کے برادرا کبرخان ذوالفقار علی خان مرحوم ( چیف سیکرٹری امام جماعت احمدیہ قادیان ) اور حافظ صوفی روشن علی مرحوم ( پرنسپل مشنری کالج قادیان) کی طرف سے پیش ہوئیں۔اور شیخ عزیز الدین مرحوم ( احمد یہ مسلم مشنری لندن کی طرف سے ان کی تائید کی گئی۔(الفضل ۲۲ و ۲۹ جولائی ۱۹۲۷ء ) حضور کی طرف سے گورنر پنجاب کو بذریعہ برقیہ توجہ دلائی گئی کہ ورتمان والا مقدمہ بخشی ٹیک چند کے سپرد نہ کیا جائے اور ایک سے زیادہ جوں کے سامنے پیش کیا جائے۔چنانچہ حکومت نے مطلع کیا کہ بخشی صاحب اس مقدمہ کی سماعت نہیں کریں گے۔مقدمہ ڈویژن بینچ کے روبرو پیش ہوا۔قائم مقام چیف جسٹس کو جو رخصت پر جارہے تھے ، بمبئی سے اس مقدمہ کی سماعت کے لئے واپس بلایا گیا۔(الفضل ۱۹/۷/۲۷) مقدمہ ورتمان میں ملزموں کے وکیل نے یہ امر بھی پیش کیا تھا کہ اگر حضرت امام جماعت احمد یہ اپنی اشتہار ورتمان کے متعلق امر تسر نہ بھجواتے تو کوئی شخص ”ورتمان “ پر معترض نہ ہوتا۔جسٹس براڈوے اور جسٹس سکیمپ کے فیصلہ سے یہ افسوسناک بات بھی منظر عام پر آئی کہ مولوی ثناء اللہ ایڈیٹر اہلحدیث امرتسر جیسے مدعی تائید اسلام نے ورتمان “ پڑھا۔لیکن اہلحدیث میں اس پر کوئی تنقید نہ کی۔انا للہ۔جج صاحبان نے یہ قرار دیا کہ حضرت بانی اسلام کو اسلام سے الگ قرار