اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 296 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 296

296 آپ کی ان مساعی سے آریہ کیمپ میں کھلبلی مچ گئی۔ہندوؤں نے مسلمانوں کی صفوں میں انتشار بقیہ حاشیہ:۔مسٹر جسٹس براڈوے:۔اس غرض کے لئے بھی ہم اغراض و مقاصد کا معائنہ نہیں کر سکتے۔مسٹرنوڈ :۔تو میں ان کا نام اغراض و مقاصد نہیں رکھتا۔اپنی بحث کے ایک نوٹ کے طور پر آپ کی خدمت میں ان کو پڑھ کر سنا دیتا ہوں۔مسٹر جسٹس براڈوے:۔جب یہی غرض خودا یکٹ کی دفعات کے مطالعہ سے حاصل ہوسکتی ہے تو اغراض و مقاصد کو درمیان میں لانے کی کیا ضرورت ہے۔مسٹرنوڈ :۔بہر صورت اس ایکٹ کے مطالعہ سے یہ ظاہر ہے کہ مجلس واضح قوانین کے خیال میں یہ اختیارت اس ہائی کورٹ کو پہلے سے حاصل ہیں۔ورنہ یہ تو ایک مضحکہ انگیز بات ہو جاتی ہے کہ یہ عدالت اپنی ماتحت عدالتوں کی حفاظت کرنے کا اختیار تو رکھتی ہے لیکن اسے اپنی حفاظت کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔اسی ضمن میں آپ کی توجہ میکسویل کی کتاب تعبیر قوانین طبع پنجم صفحہ ۵۷ کی طرف پھیرنا چاہتا ہوں۔جس میں یہ درج ہے کہ ایک بعد کے وضع شدہ قانون سے ایک پہلے کے وضع شدہ قانون کی تعبیر میں مدد لی جاسکتی ہے۔میرے فاضل دوست نے کی جو بحث کی ہے کہ فیصلہ جات پیش کردہ میں اس پہلو سے اس مسئلہ پر روشنی نہیں ڈالی گئی ، جو انہوں نے آج عدالت کے سامنے پیش کیا ہے، یہ قابلِ تسلیم نہیں۔آپ خوب جانتے ہیں کہ مقدمات کی رپورٹوں میں وکلاء کی بحث پورے طور پر درج نہیں کی جاتی۔اس لئے یہ قیاس نہیں کیا جا سکتا کہ ان مقدمات میں جن کے فیصلے پیش کئے گئے ہیں۔اس پہلو سے بحث نہیں کی گئی تھی۔جس کو میرے فاضل دوست نے آج اٹھایا ہے۔اور نہ ہی میرے فاضل دوست کی بحث کو وہ جدت حاصل ہے جس کا انہوں نے ادعا کیا ہے۔چیف کورٹ پنجاب کے متعلق بھی مجھے یہ تسلیم نہیں ہے کہ اسے توہین عدالت کے متعلق کا رروائی کرنے کا اختیار نہیں تھا۔یہ مسئلہ کبھی چیف کورٹ کے سامنے پیش نہیں ہوا۔ورنہ وہاں بھی غالباً یہی قرار دیا جاتا کہ چیف کورٹ کو ایسے اختیارات حاصل ہیں۔جواب الجواب از چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب چوہدری ظفر اللہ خاں :۔میرے فاضل دوست نے توہین کی مختلف اقسام بیان کر کے یہ قاعدہ پیش کیا ہے کہ جب بعض اقسام کی توہین کے متعلق سزا دینے کے اختیارات حاصل ہیں ، تو بقیہ اقسام