اصحاب احمد (جلد 11) — Page 295
295 کر لیا اور اس کے مصنف اور نا شر دونوں کو گرفتار کر لیا۔(الفضل ۸/۷/۲۷) بقیہ حاشیہ:- فیصلہ ہو جانے کے بعد عدالت کے متعلق ایسی باتیں کہی یا لکھی جائیں۔جن سے عدالت کی توہین مقصود ہو۔موجودہ کا رروائی اس تیسری قسم کی توہین کے متعلق ہے۔میرے فاضل دوست نے اپنی بحث کے دوران میں ان مختلف اقسام کی توہین کے درمیان تمیز نہیں کی۔اگر عدالت کو دیگر اقسام کی توہین کے متعلق سزا دینے کے اختیارات حاصل ہیں۔تو یقیناً اس آخری قسم کی توہین کے متعلق بھی وہی اختیارات حاصل ہوں گے۔یہ اختیارات انگلستان میں زمانہ قدیم سے استعمال ہوتے چلے آئے ہیں اور کوئی نئے اختیارات نہیں ہیں۔یہ اختیارات ہر کورٹ آف ریکارڈ کے ساتھ لازمی طور پر متعلق ہیں اور کورٹ آف ریکارڈ کو ان اختیارات کا حاصل ہونا ایک لازم و ملزوم امر ہے۔یہ مسلمہ ہے کہ عدالت عالیہ لاہور کورٹ آف ریکارڈ ہے۔اس لئے اسے لازماًیہ اختیارات حاصل ہیں۔میرے فاضل دوست نے پریذیڈنسی ہائی کورٹوں اور دیگر ہائی کورٹوں کے درمیان تمیز کی ہے۔لیکن ۲۹۔الہ آباد صفحہ ۹۵ میں صاف طور پر یہ درج ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کو یہ اختیارات حاصل ہیں۔حالانکہ الہ آباد ہائی کورٹ پریذیڈنی ہائی کورٹ نہیں۔یہ فیصلہ پر یوی کونسل کا فیصلہ ہے اور اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ایک ضمنی ریمارک ہے۔پر یوی کونسل کے فیصلوں میں جو کچھ بھی درج ہو، وہ ہندوستان کی عدالتوں پر قابل پابندی ہے۔دیگر فیصلہ جات جن پر میں انحصار رکھتا ہوں ، وہ میرے فاضل دوست نے آپ کے سامنے پیش کر دئے ہیں۔چنانچہ ۶ لا ہور اور ۴۸ الہ آباد میں بھی یہی قرار دیا گیا ہے کہ غیر پریذیڈنسی ہائی کورٹوں کو بھی یہ اختیارات حاصل ہیں۔اسی ضمن میں آپ کی توجہ ایکٹ ۱۲ ۱۹۲۲ء جو عدالت ہائے ماتحت کی توہین کی نسبت پاس کیا گیا ہے کے اغراض و مقاصد کی طرف منعطف کرانا چاہتا ہوں۔مسٹر جسٹس براڈوے: کسی ایکٹ کے اغراض و مقاصد اس کی تعبیر کے لئے متعلق نہیں قرار دئے جاسکتے۔مسٹرنوڈ :۔میں آپ سے یہ درخواست نہیں کرتا کہ آپ اس ایکٹ کی تعبیر کریں۔میں صرف یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ اس ایکٹ کے پاس کرنے میں مجلس واضح قوانین کے ذہن میں یہ بات تھی کہ تمام ہائی کورٹوں کو توہین عدالت کے متعلق کا رروائی کرنے کے اختیارات پہلے ہی سے حاصل ہیں۔