اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 273 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 273

273 ترقی اور دیگر بدلے ہوئے حالات نے دنیا کی اقوام کو باہم مربوط کر دیا ہے۔دنیا کے امن ،ترقی اور خوشحالی کے لئے ضروری ہے کہ تعاون اور ہمدردی کا ایک عالمی جذبہ پیدا کیا جائے۔اگر یہ جذبہ پیدانہ کیا گیا تو اس کا نتیجہ پوری دنیا کے لئے مہلک ثابت ہوگا۔(الفضل ۴/۷/۵۵ (ص ۱) و ۱۷٫۷٫۵۵ (ص۱) (۱۰) مساجد کی بناء وافتتاح مساجد کا وجود ہزار ہا فوائد کا حامل ہے۔جماعت احمدیہ کے تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ ممالک زیر تبلیغ میں ان کا وجود تبلیغی سرگرمیوں کو تیز کرتا ہے، اور لوگوں کو بھینچ کر لاتا ہے اور مساجد مراکز کا کام دیتی ہیں۔یکے بعد دیگرے غیر ممالک میں مساجد کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔سید نا خلیفہ اسیح الثانی ( مَتَّعْنَا اللهُ بِطُولِ حَيَاتِهِ ) کی یہ سکیم حیرت انگیز انقلابی افادیت کی حامل ہے۔(۱) مسجد لیگوس ( مغربی افریقہ ) جناب چوہدری صاحب کو مغربی افریقہ میں ایک مسجد کا سنگِ بنیا درکھنے کا شرف حاصل ہوا۔اس وقت کے مجاہد حکیم فضل الرحمن صاحب فرماتے ہیں۔کہ 11 مارچ ۱۹۴۳ء کو چوہدری صاحب لیگوس ( نائیجیریا، مغربی افریقہ وارد ہوئے اور گورنمنٹ ہاؤس سے ٹیلیفون پر اطلاع ملنے پر میں وہاں پہنچا، اور پروگرام طے کیا۔اگلے روز مسجد کا سنگ بنیاد آپ نے رکھا تھا۔میں نے بہت سے افسران کو ٹیلیفون پر اطلاع دی اور پوسٹر چھپوا کر راتوں رات چسپاں کروائے۔مقامی ریڈیو پر بھی اور اخبارات میں بھی اعلان کرایا۔سنگِ بنیا د رکھنے کے وقت بہت بڑے مجمع کے علاوہ گورنر ، چیف سیکرٹری ، فنانشل سیکرٹری، کمشنر پولیس کمشنر آف دی کالونی ، بحری محکمہ کے ڈائرکٹر ممبران مجالس قانون ساز و انتظامیہ گورنر صاحب۔مجسٹریٹ ، وکلاء، تجار ، حجاج ، لوکل چیفس ، علماء اور یورپین اور افریقن معززین نے شرکت کی سرعزیز الحق (لندن میں متعین ہندوستانی ہائی کمشنر ) سرجان کالول نامزد گورنر برائے بمبئی نے بھی شرکت کی۔احباب جماعت آپ کے استقبال اور اس تقریب میں شمولیت کے لئے چھ سو میل تک سے تشریف لائے۔میں نے تلاوت کے بعد ایک خطبہ جمعہ میں سلسلہ احمدیہ کی مختصر تاریخ اور اس کی ترقی اور عالمگیر جنگ کے متعلق پیشگوئیاں بیان کیں۔بعد ازاں جناب چوہدری صاحب نے مختصر مگر جامع خطاب میں مسجد کی اغراض بیان کیں جس سے لوگوں پر عمدہ اثر ہوا۔اس کے بعد سنگِ بنیا درکھ کر دعا کی۔اور پھر سر عزیز الحق اور گورنر صاحب نے بھی تقاریر کیں۔اس کا نام سید نا حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ