اصحاب احمد (جلد 11) — Page 215
215 (۱۲) مقامی تبلیغ کے لئے آپ نے مالی امداد کی۔** بقیہ حاشیہ: - منعقد کی جائے۔تفصیلی قواعد بنانے کے لئے ایک سب کمیٹی مقرر کر دی جائے اور اس کانفرنس کے اخراجات کے طور پر دو ہزار روپیم منظور کیا جائے۔ابھی حضرت مرزا شریف احمد صاحب یہ پڑھ ہی رہے تھے کہ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح اچانک کرسی سے اٹھے اور فرش پر سجدہ میں گر گئے۔اس پر چپ چاپ تمام حاضرین بھی سر بسجو د ہو گئے۔بعد سجدہ حضور نے فرمایا کہ مجھے یاد ہے کہ جب منارة امسیح کے لئے جمع سات آٹھ ہزار روپیہ بنیادوں میں ہی صرف ہو گیا تھا اور حضرت مسیح موعو علیہ السلام اس بارہ میں متفکر تھے اور بعض احباب یہ ذکر کر ہے تھے کہ فلاں فلاں خرچ بھی ہونگے اور یہ اندازہ کئی ہزار روپے کا تھا۔تو حضور نے فرمایا کہ مشورہ کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ تعمیر مینارا کو التواء میں ڈال دیا جائے ، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ایک وہ وقت تھا اور آج وہ وقت ہے کہ مسجد مبارک کی توسیع کے لئے عصر کے وقت میں نے ( مسجد مبارک میں ) ذکر کیا اور عشاء سے پہلے پہلے اٹھارہ ہزار روپے اور وعدہ کی رقوم جمع ہوگئیں۔اور بیرونی احباب کو اس میں شریک ہونے کا موقعہ نہیں ملا۔پنتالیس سال قبل ( بوقت تالیف اصحاب احمد جلد ہذا باسٹھ سال ) وہ شخص جس کی جوتیوں کا غلام ہونا بھی ہمارے لئے باعث فخر ہے ، اسے اس وقت جماعت کی حالت دیکھتے ہوئے ایک بہت بڑا مقصد اور کام یہ نظر آیا کہ ایک ایسا کمرہ بنایا جائے جس میں ایک سو آدمی بیٹھ سکیں اور اس کے لئے حضور کو اعلان کرنا پڑا۔مگر آج ہم ایک ایسے کمرے میں بیٹھے ہیں جو اس غرض کے لئے تعمیر نہیں ہوا کہ مختلف مذاہب کے لوگ اس میں تقاریر کریں۔مگر اس میں پانصد افراد بیٹھے ہیں اور وہ بھی کرسیوں پر جو کہ زیادہ جگہ گھیرتی ہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اکثر لوگ اس کے نشانات سے اعراض کرتے ہوئے گذر جاتے ہیں۔چشم بینا کے لئے یہ بہت بڑا نشان ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ جماعت کو بڑھاتا اور سامان پیدا کرتا چلا جارہا ہے۔ایک وقت میں جو بات بہت بڑی معلوم ہوتی ہے وہ کل حقیر ہو جاتی ہے۔اور اس کا خیال کر کے حضرت عائشہ کی طرح دل بھر آتا اور آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں کہ کاش جماعت کی یہ ترقی حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ہوتی تا آپ بھی اس دنیا میں اپنے کام کے خوش گن نتائج دیکھ لیتے۔یہ فرماتے ہوئے حضور پر بے حد رقت طاری ہوگئی۔پھر حضور نے فرمایا کہ اصل مقصد کا نفرنس کرنا ہے اور اس بارہ میں احباب کو مشورہ دینے کے لئے فرمایا۔ابھی پانچ احباب نے ہی مشورہ دیا تھا کہ حضور نے فرمایا کہ دو ہزار روپیہ مطلوبہ تو چو ہدری اسداللہ خاں صاحب ( حال امیر جماعت لاہور ) نے ہی دے دیا ہے۔اس موقعہ پر دوستوں