اصحاب احمد (جلد 11) — Page 214
214 ۴۳ ۱۹۴۲ء میں قریباً گیارہ ہزار روپیہ ہو گیا۔(۹) تراجم قرآن مجید وغیرہ۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی سکیم تھی کہ قرآن مجید کے تراجم اور ایک ایک اور کتاب سات زبانوں میں شائع کئے جائیں اور ایک ایک علاقہ ایک کا ترجمہ اور ایک کتاب کے اخراجات برداشت کرے۔اس بارہ میں مزید توضیح و تحریک کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: یہ درخواستیں یا افراد کی طرف سے ہیں مثلاً چوہدری ظفر اللہ خاں ,, صاحب اور ان کے بعض دوستوں کی طرف سے یہ سب درخواستیں یا ان افراد کی طرف سے ہیں جو صاحب توفیق ہیں اور یہ بوجھ اٹھاسکتے ہیں۔(۱۰) منارة امسیح کے ہال کے چندہ میں شرکت۔** (۱۱) آپ تحریک جدید دفتر اول کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل ہیں۔دور اول میں آپ نے پینتالیس ہزار نو صد چونتیس روپے ( گویا علاوہ دیگر چندہ جات حصہ آمد جلسہ سالانہ وغیرہ کے ) آپ نے والدین ، دختر اور اپنی طرف سے ادا کیا۔* بقیہ حاشیہ:- آپ کی طرف سے ادا ئیگی ہوتی رہی۔چونکہ تقسیم ملک کے باعث پاکستان سے رقم کا قادیان میں منتقل ہونا متعذر تھا۔اس لئے یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔رپورٹ ہائے سالانہ صدر انجمن احمدیہ بابت ۳۹۔۱۹۳۸ء ص۳۰۰ و ۴۰۔۱۹۳۹ء (ص۳۹) اس وقت تک قریباً سوا آٹھ ہزار روپیہ اس فنڈ میں ادا ہو چکا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: بالآخر میں ایک ضروری امر کی طرف اپنے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس مینارہ میں ہماری یہ بھی غرض ہے کہ مینارہ کے اندریا جیسا کہ مناسب ہو، ایک گول کمرہ یا کسی اور وضع کا بنایا جاوے جس میں کم از کم ۱۰۰ آدمی بیٹھ سکے اور یہ کمرہ وعظ اور مذہبی تقریروں کے کام آئے گا۔کیونکہ ہمارا ارادہ ہے کہ ایک یا دو دفعہ قادیان میں مذہبی تقریروں کا جلسہ ہوا کرے اور اس جلسہ پر ایک شخص مسلمانوں ، ہندوؤں ، آریوں اور عیسائیوں اور سکھوں میں سے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے۔مگر شرط یہ ہوگی۔کہ کسی مذہب پر کسی قسم کا حملہ نہ کرے فقط اپنے مذہب کی تائید میں جو چاہے تہذیب سے (اشتہار خطبہ الہامیہ ) سے سمیٹی نے اس بار کمیٹی نے اس بارہ میں یہ تجویز کیا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ قادیان میں ایک مذہبی کانفرنس