اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 196 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 196

196 جد و جہد کے لئے خطرناک ثابت ہوں ، تو یہ ایک گناہ عظیم اور جرم ہوگا۔مسلم اتحاد پر زور دیتے ہوئے مزید لکھا کہ موجودہ حالات میں جبکہ دنیائے اسلام ترقی کے ذرائع تلاش کر رہی ہے اور اپنی عظمت رفتہ کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اور اس کوشش میں خاص طور پر سر ظفر اللہ خاں نہایت ہی اہم حصہ لے رہے ہیں۔اور پھر خاص طور پر ایسے وقت میں جبکہ اسلامی ممالک کے وزرائے اعلیٰ کراچی میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شمولیت کے لئے تیار ہور ہے ہیں۔ایسے مرحلہ پر مفتی مذکور کا سر موصوف پر کفر کی تہمت لگانا نہایت ہی قابل افسوس سراسر غیر دانشمندانہ اور تنگ نظری پر مبنی امر ہے۔گو مفتی کو بین الاقوامی پوزیشن حاصل نہیں لیکن ایک مفتی کا فتویٰ دنیائے اسلام میں ایک حرکت اور کشمکش پیدا کر سکتا ہے اور یہ امر فرزندان اسلام کی تعمیری مساعی کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔بھلا دوسرے ملک کے امور میں مفتی مذکور کو دخل اندازی کی کیا ضرورت تھی۔فاروق ( سابق شاہ مصر جو عبارت سے مفہوم ہوتا ہے ) کے متعلق لکھا کہ ایک شخص جو شراب نوشی کی مجالس میں آمد و رفت کا عادی ہے ، قمار بازی کے اڈوں میں جاتا ہے ، گاہے گا ہے خوبصورتی کے مقابلوں کا حج بنتا ہے۔وہاں مفتی مذکور کو بولنا چاہیئے۔لیکن وہ گونگا ہے۔یہ مسلم لیڈر اسی دائرہ (مصر) کے اندر رہتا ہے۔جہاں مفتی مذکور کو قا نو نا اظہار خیالات کا حق بھی پہنچتا ہے۔مگر وہاں یہ کوشش جاری ہے کہ ممکن ہو تو ایسے شخص کو دنیائے اسلام کی ممتاز ترین شخصیت تصور کیا جائے۔ایک مسلمان بھائی کو کا فرقرار دینا ہی ایک کافی بڑا گناہ ہے۔اور پھر اس شخص کا گناہ کس قدر عظیم ہو گا ، جو اپنے اس بھائی کو کافر کہے جو ہرلمحہ سراسر اسلام ہی کی عظمت اور اسی کے وقار کے لئے ہمہ تن کوشاں ہے۔ہم بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ مفتی کے فتویٰ میں ضرور کوئی سیاسی مقصد کارفرما ہے اور اس کے پیچھے ضرور کوئی ایسا گروہ مصروف عمل ہے جو مسلمانوں کے احیاء کو پسند نہیں کرتا۔ہمیں مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے مخالفین جو ہمیشہ ہمارے تنزل کے لئے کوشاں ہیں ، ہماری ترقی کی مساعی میں کوئی لغزش پیدا نہ کر سکیں۔آپ اقوام متحدہ کی کونسل کی صدارت کے لئے امیدوار ہیں۔اس بارہ میں ”حقیقت“ لکھنؤ رقمطراز ہے: یہ واقعہ ہے کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خاں بر صغیر ہندو پاکستان میں گنتی کے چند چوٹی کے مدبروں میں سے ہیں۔خصوصا پاکستان کے موجودہ لیڈروں میں تو موصوف اپنی قانونی قابلیت،