اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 181 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 181

181 دو اب مٹی کہ مٹی۔جماعت احمد یہ کو غیر مسلم قرار دینے کی تحریک تقسیم ملک سے بہت پہلے سے جاری تھی اور سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس متوقع بھیا نک فتنہ کو اپنی دوراندیشی سے بھانپ کر کل ہند مسلم لیگ سے اس بارہ میں محترم پیرا کبر علی صاحب کے ذریعہ فیصلہ کرانے کی کوشش کی تھی۔لیکن مسلم لیگ کے ارباب حل و عقد اس امر کو چنداں اہمیت نہ دیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اس امر کو زیر بحث لانے سے فتنہ پیدا ہو جائیگا۔۱۹۵۱ء سے اس مخالفت نے شدت اختیار کر لی اور ۱۹۵۳ء میں قتل و غارت تک نوبت پہنچ گئی اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہوکر مارشل لاء نافذ نہ ہو جا تا تو بظاہر بلا مبالغہ ہزار ہا احمدی تہ تیغ ہو چکے ہوتے۔اس مخالفانہ پراپیگنڈے کے زیر اثر ایک نا نجار نے حصول ثواب کے لئے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ پر قاتلانہ حملہ کر دیا جبکہ آپ نماز پڑھا کر مسجد سے واپس جارہے تھے۔تحقیقاتی عدالت میں عمامہ پوش علماء کا کردار ساری قوم کے سامنے آگیا کہ بے گناہ اور نہتے احمدیوں کے خون سے ہولی کھیلنے کیلئے انہوں نے کیا کچھ نہ کیا۔ان حالات کو دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔چند سال قبل کے یہ خونچکاں اور روح فرسا حالات قارئین کرام کو کیونکر بھول سکتے ہیں لیکن ان احباب کی خاطر جو اس وقت بالکل کم عمر تھے۔ہم کراچی کی ہلڑ بازی کی کیفیت کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔۱۷، ۱۸ رمئی ۱۹۵۲ء کو جماعت احمدیہ کراچی کا سالانہ جلسہ منعقد کئے جانے کا اعلان ہونے پر مخالفین نے اسے ناکام بنانے کے لئے مساجد میں عوام کو مشتعل کیا۔پہلے روز کے اجلاس میں صاحب صدر کی تقریر میں ان لوگوں نے جگہ جگہ سے گالیاں دینی اور نعرے لگانے اور آوازیں کسنے شروع کئے۔پولیس نے انہیں نکالنا چاہا لیکن وہ تشدد پر اتر آئے اور پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔پولیس نے سرغنے گرفتار کئے لیکن یہ لوگ باز نہ آئے باہر والوں کو اکسا کر اندر لایا جاتا نہایت ہی قابل شرم، حیاسوز اور اخلاق سوز مظاہرے کے بعد بھی وہ جلسہ کو ختم نہ کر سکے۔انہوں نے فحش گالیاں دیں، تالیاں پیٹیں ، سیٹیاں بجائیں ، ناچے کو دے لمبی داڑھیوں والے مولوی بھی شامل تھے۔اس وقت ایک احمدی عالم کی تقریر قرآن مجید کی صداقت کے متعلق جاری تھی۔جس وقت صاحب صدر اس روز کے اجلاس کے اختتام کا اعلان کر رہے تھے تو ان لوگوں نے سٹیج پر یورش کرنا چاہی۔پولیس کی ایک بڑی جمعیت نے ان پر لاٹھی چارج کر کے اندر جانے سے روکا۔لیکن ان لوگوں نے پولیس پر پتھراؤ وغیرہ کیا۔بعض شریروں نے بجلی کی تاریں کاٹ دیں ، لاؤڈ سپیکر کو گرا دیا۔واپس جانے والے