اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 182 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 182

182 احمد یوں اور علماء پر پتھراؤ کیا۔ان حالات کے پیش نظر دوسرے روز جلسہ گاہ کے نصف میل کے اندر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے دفعہ ۱۴۴ نافذ کر کے اعلان کر دیا گیا کہ لاٹھی وغیرہ ساتھ لانا اور پانچ سے زائد افراد کا اجتماع منع ہے اور جماعت احمدیہ کا جلسہ بدستور وہاں منعقد ہوگا۔چنانچہ جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل پر تقاریر ہوئیں۔مخالفین شور و شر کرتے رہے لیکن سات آٹھ ہزار کے جلسے میں کوئی خاص مزاحمت نہ کر سکے۔اس موقعہ پر چیف کمشنر، انسپکٹر جنرل پولیس، سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایڈیشنل مجسٹریٹ موجود تھے۔محترم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی تقریر شروع ہوتے ہی پولیس نے باہر کے لوگوں کو اندر آنے سے روک دیا۔مخالفین کو جو بڑی تعداد میں باہر جمع ہو کر نعرے لگاتے اور شور مچاتے تھے۔پولیس نے متعدد بار بتایا کہ ان کا اجتماع خلاف قانون ہے۔اور انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی لیکن ہجوم تشدد پر اتر آیا۔کئی بار ان پر اشک آور گیس استعمال کی گئی۔جب یہ شر پسند جلسہ گاہ میں کسی طرح داخل نہ ہو سکے۔تو انہوں نے شیزان ہوٹل اور احمد یہ فرنیچر ہاؤس کو آگ لگا دی۔احباب جماعت احمدیہ نے کامل فرمانبرداری کا نمونہ دکھایا۔اور باوجود ہر طرح کے اشتعال کے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی ہرگز کوشش نہیں کی۔AY سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور۔اور نوائے قت لاہور وغیرہ روز ناموں نے اس بگڑ بازی کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے لکھا کہ جب چوہدری صاحب اسلام ایک زندہ مذہب ہے“ کے موضوع پر تقریر کر رہے تھے۔تو اڑھائی صد احراریوں کے ہجوم نے جلسہ میں گھنے کی کوشش کی۔حالانکہ جلسہ گاہ کے نصف میل کے اندر دفعہ ۱۴۴ نافذ تھی۔اور پھر اس ہجوم نے شیزان ہوٹل ، احمد یہ فرنیچر ہاؤس وغیرہ کو نظر آتش کیا۔انگریزی روزنامہ ڈان کراچی نے لکھا کہ رواداری کے اصولوں کو خاک میں ملانے والے یہ چرب زبان لوگ اسلام اسلام پکارنے کے باوجود مسلمانوں کے مابین تشنت وافتراق کی خلیج دن بدن وسیع کر رہے ہیں۔جماعت احمدیہ کو پبلک جلسہ کرنے کا اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا کہ ان کے مخالفین کو۔گذشتہ دو دن مسلسل تشدد کا جو شرمناک مظاہرہ ہوتا رہا ہے۔اسے محض اتفاقی حادثہ قرار