اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 7 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 7

7 وہ آٹھ ماہ کا ہو چکا تھا۔آپ اُسے لیکر میکے آئیں۔چھ روز ہوئے تھے کہ وہی جے دیوی ملنے آئی اور بچے کو پیار کیا اور آپ سے کچھ پار چات اور کچھ رسد اس رنگ میں طلب کی جس سے یہ مترشح ہوتا تھا کہ گویا یہ چیزیں ظفر پر سے بلا ٹالنے کیلئے ہیں۔آپ نے جواب دیا کہ تم ایک مسکین بیوہ عورت ہو۔اگر تم صدقہ یا خیرات کے طور پر کچھ طلب کرو تو میں خوشی سے اپنی توفیق کے مطابق تمہیں دینے کے لئے تیار ہوں لیکن میں چڑیلوں اور ڈائنوں کی ماننے والی نہیں۔میں صرف اللہ تعالیٰ کو موت اور حیات کا مالک مانتی ہوں۔اور کسی اور کا ان معاملات میں کوئی اختیار تسلیم نہیں کرتی۔ایسی باتوں کو میں شرک سمجھتی ہوں۔اور ان سے نفرت کرتی ہوں اس لئے اس بناء پر میں تمہیں کچھ دینے کے لئے تیار نہیں ہوں۔جے دیوی نے جواب میں کہا کہ اچھا تم سوچ لو۔اگر بچے کی زندگی چاہتی ہو تو میرا سوال تمہیں پو راہی کرنا پڑے گا۔چند دن بعد آپ ظفر کو غسل دے رہی تھیں کہ پھر جے دیوی آگئی۔اور بچے کی طرف اشارہ کر کے دریافت کیا: ”اچھا یہی ساہی راجہ ہے؟ آپ نے جواب دیا۔”ہاں یہی ہے۔“ جے دیوی نے پھر وہی اشیاء طلب کیں۔آپ نے پھر وہی جواب دیا۔جو پہلے موقعہ پر دیا تھا۔اس پر کے دیوی نے کچھ برہم ہو کر کہا: 66 اچھا اگر بچے کو زندہ لے کر گھر لوٹیں تو سمجھ لینا کہ میں جھوٹ کہتی تھی۔“ آپ نے جواب دیا: جیسے خدا تعالیٰ کی مرضی ہوگی وہی ہوگا۔“ ابھی کے دیوی مکان کی ڈیوڑھی تک بھی نہ پہنچی ہوگی کہ غسل کے درمیان ہی ظفر کو خون کی ئے ہوئی اور خون ہی کی اجابت ہو گئی۔چند منٹوں میں بچے کی حالت دگرگوں ہوگئی اور چند گھنٹوں کے بعد وہ فوت ہو گیا۔آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کی۔یا اللہ ! تو نے ہی دیا تھا اور تُو نے ہی لے لیا۔میں تیری رضا پر شاکر ہوں۔اب تو ہی مجھے صبر عطا کیجیو۔اسکے بعد خالی گورڈ سکہ واپس آگئیں۔محترمہ کے الفاظ ہیں اور کیا ہی ایمان بھرے الفاظ ہیں۔کاش ہم میں سے ہر ایک کو ایسا ایمان نصیب ہو۔فرماتی ہیں : و سبھی لوگ کہتے تھے کہ جے دیوی نے ہی اسے کچھ کر دیا ہے۔مگر میں اپنے اس عقیدہ پر