اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 8 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 8

8 اصرار اور مضبوطی سے قائم رہی کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی یوں ہی تھی۔اللہ تعالیٰ کے منشاء اور ارادہ میں کسی کو دخل اور قدرت نہیں۔میں جانتی تھی کہ وہ رب العالمین میرا ایمان دیکھتا ہے اور امتحان کرنا چاہتا ہے۔وہ زمانہ عجیب تو ہمات اور جہالت کا زمانہ تھا۔لیکن میرے عقیدہ میں کوئی فرق نہ آیا۔“ ایک سال گذر جانے پر مجھے ایک خواب آیا کہ ایک لڑکا ہمارے گھر ڈسکہ میں آیا ہے۔اُس کے پاس چوڑیاں ( و نگاں ) ہیں۔میں نے اُس سے پوچھا کہ آیا وہ دینے آیا ہے۔تو اس نے جواب دیا کہ نہیں چوڑیاں بیچنے نہیں آیا بلکہ یہ بتلانے آیا ہوں کہ آپ کو ایک گرہن لگے گا۔سنیچر کا روز ہوگا۔دس بجے دن کا عمل ہوگا۔اِس کا علاج حفظ ما تقدم کے طور پر احتیاطاً لازم ہے۔۔۔۔۔سوا پاؤ آٹا لے کر اس میں کچی ہلدی ڈال کر گوندھ لو۔اور اُس کابُت بنا کر اپنے چوبارہ کی بام پر یا منڈیر پر جہاں ہر روز چیل بیٹھتی ہے۔وہاں رکھ دو۔“ در صبح ہوئی تو میں نے یہ غلطی کی کہ آٹا تول کر اس میں کچھ (ہلدی ) بھی ملا دی۔اور جب پیچھے کمرہ میں جا کر تنہائی میں وہ بُت بنانے لگی ، تو میں نے ایک بلند آوازسنی کہ: وو 66 تو بہ کرو۔استغفار کرو میں نے اس آئے وغیرہ (کو) مکان سے باہر پھینک دیا۔اس لڑکے نے مجھے یہ کہا تھا کہ بدھ کے روز یہ بہت حسب ترکیب بالا تیار کروں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل واحسان سے مجھے اس گناہ کبیرہ اور شرک کے ارتکاب سے محفوظ فرمالیا۔میں نے اپنے پروردگار کا لاکھ لاکھ شکریہ (ادا) کیا۔توبہ کی ، استغفار کی اور مجھے یقین کامل ہو گیا کہ یہ شیطان ہی تھا۔جو اس لڑکے کی شکل میں مجھے خواب میں دکھائی دیا۔اور مجھے گمراہی کی اور شرک وظلم کی تعلیم دے گیا۔یہ واقعہ بدھ کے روز کا تھا۔اور سنیچر وار کو میرے ہاں ایک لڑکا چھ ماہ کا مُردہ پیدا ہوا۔“ ایک سال بعد محمد رفیق پیدا ہوا۔ظفر سے بھی زیادہ پیارا اور خوش شکل۔بچے کے دادا صاحب نے آپ سے کہا کہ جب تک یہ بچہ چلنے پھرنے لگے اور آپ سے الگ رہنے کے قابل نہ ہو جائے آپ کو دا تا زید کا جانے نہ دیں گے۔رفیق قریباً پون سال کا ہو گیا۔اور آپ اس عرصہ میں ڈسکہ میں مقیم رہیں۔پھر آپ کے خاندان میں کوئی وفات ہوگئی اور مجبوراً انہیں دا تا زید کا جانا پڑا۔بچے کے دادا اُس وقت کسی دوسرے گاؤں گئے ہوئے تھے۔دا تا زید کا پہنچنے کے ایک آدھ دن بعد پھر جے دیوی آئی۔اور اُس نے اپنا پرانا مطالبہ پیش کیا