اصحاب احمد (جلد 11) — Page 177
177 چکی ہے تو پھر اسے قائل کرنے کی کوشش بے سود ہے۔دو لیکن اس وقت عربوں کے بعض نمائندے جو دیکھ رہے تھے کہ ہمارے وزیر خارجہ بحث کے دوران میں خاموش بیٹھے ہیں ، آپ کے پاس آئے اور (ایک مرتبہ پھر ) عربوں کا معاملہ پیش کرنے کی درخواست کی۔چوہدری محمد ظفر اللہ خاں نے تقریر کے لئے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔بایں ہمہ وہ عرب نمائندوں کو مایوس بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ادھر تقریر تیار نہ ہونے کے علاوہ طبیعت بھی قدرے ناساز تھی۔ایک لمحہ تذبذب کے بغیر آپ سیدھے سٹیج کی طرف بڑھے۔اس کے بعد مسلسل دو گھنٹہ تک سلامتی کونسل کی فضاء فنِ خطابت کی ضوفشانی سے جگمگ جگمگ کرتی رہی۔عرب نمائندوں نے باتفاق رائے تسلیم کیا کہ جس دلنشین انداز اور پر زور طریق پر چوہدری محمد ظفر اللہ خاں نے ان کا معاملہ پیش کیا ہے ، اس زور دار طریق پر دوسرا کوئی شخص پیش نہیں کر سکا۔دو گھنٹے تک یوں معلوم ہوتا تھا کہ دلائل و براہین کا ایک دریا ہے جو انڈا چلا آتا ہے۔اس تمام عرصہ میں وہ چند صیہونی نمائندے جو پچھلی نشستوں پر بیٹھے تھے، تلملاتے اور بل بھرتے رہے۔وہ منہ میں جھاگ لا لا کر اپنے لرزیدہ پاؤں فرش پر ماررہے تھے۔اور منہ ہی منہ میں برا بھلا کہہ رہے تھے۔اس میں قطعاً کوئی مبالغہ نہیں کہ ہمارے وزیر خارجہ کی تقریروں پر دشمن جہاں تلملا اٹھتے ہیں۔وہاں ہمارے دوستوں کے لئے وہ حد درجہ طمانیت کا موجب ہوتی ہیں۔ان کے اہل ہاتھوں میں ہمارے امور خارجہ اور بیرونی تعلقات پوری طرح محفوظ ہیں۔لیک سکسیس میں اگر وہ ہماری نمائندگی کر رہے ہوں تو فکر کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔لیک سکسیس میں ہمارے وزیر خارجہ نے وہ ناموری حاصل کی ہے جو بلا شبہ کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہے۔دو اڑھائی سال کے عرصہ میں بیرونی دنیا میں انہوں نے پاکستان کی ساکھ قائم کرنے اور اس کی عزت و وقار کو چار چاند لگانے میں جو کارنامہ سرانجام دیا ہے۔اس کی مثال نہیں مل سکتی۔سلامتی کونسل میں جس طریق پر انہوں نے پاکستان کا معاملہ پیش کیا ہے۔اس سے اس فریب کا جو پاکستان کو دیا جار ہا تھا۔اچھی طرح پردہ چاک ہو گیا ہے۔ایک سکسیس میں کمال بے جگری سے انہوں نے۔۔۔جنگ لڑی ہے اور دنیا کے سامنے یہ ثابت کر کے کہ بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں