اصحاب احمد (جلد 11) — Page 178
178 کسی کی زاویہ نگاہ سے کیوں نہ دیکھا جائے وہ اس جنگ میں فتحیاب رہے ہیں۔قائد اعظم مرحوم کی طرح وہ جھکنا نہیں جانتے۔وہ اس فتح کے قائل ہی نہیں جو گر کر نصیب ہو۔وہ فتحیابی کس کام کی جس کی خاطر عزت نفس گنوانی پڑے۔وہ کبھی تذلل اختیار نہیں کرتے اور پھر بھی ہمیشہ فتحیاب رہتے ہیں۔مجھے اس وقت ان کی ایک تقریر یاد آ گئی جو انہوں نے گزشتہ سال ایک مقامی کالج میں کی تھی۔وہ طلباء کے سامنے فن خطابت کی وضاحت فرمارہے تھے۔انہوں نے وہ تمام خوبیاں اور اوصاف بیان کئے جو ایک اچھے خطیب میں ہونے چاہئیں۔تقریر میں انہوں نے اپنے ذاتی تجارب کی دلچسپ حکائتیں اور روایات جی بھر کر سنائیں۔انہوں نے کہا ، ہاں ایک اور خوبی ہے ، جو ہر اولوا العزم مقرر کو اپنے اندر پیدا کرنی چاہیئے۔اور وہ یہ کہ اسے معلوم ہونا چاہیئے کہ وہ اپنی تقریر کو کہاں ختم کرے۔اور یہ کہ کر آپ بیٹھ گئے۔مؤقر رفتار زمانہ رقطراز ہے: 2966 الغرض آپ نے پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے پاکستان کی نوزائیدہ مملکت کا سکہ عالم اسلام پر بٹھا دیا۔آپ نے اپنے ملک کے لئے گراں بہا خدمات انجام دی ہیں۔اور اکثر نازک مراحل میں اپنی زور خطابت ، قوت استدلال اور قانونی تجر کے ایسے جو ہر دکھائے کہ اشد ترین معاندین بھی آفرین کہہ اٹھے۔۱۹۵۴ء میں آپ سر بنکل راؤ کی جگہ بین الاقوامی عدالت عالیہ کے حج منتخب ہوئے۔جس سے ملکی وقار میں بیحد اضافہ ہوا اور پاکستان دنیا کے سیاست کی صف اول میں آ گیا۔اس موقعہ پر پاکستان کے شہرہ آفاق مصنف علامہ رئیس احمد جعفری نے آپ کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: چوہدری ظفر اللہ خاں سر بنکل راؤ کی جگہ بین الاقوامی عدالت عالیہ کے جج منتخب ہو گئے ہیں۔یہ انتخاب ہر اعتبار سے مسرت افزاء ہے۔ہم چوہدری صاحب موصوف کو اس اعزاز پر دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔وہ اس منصب پر پہنچ گئے جو ہر اعتبار سے ان کے شایانِ شان ہے۔۔۔۔۔چوہدری صاحب نے گراں بہا خدمات سرانجام دی ہیں۔بڑے بڑے کٹھن اور نازک مواقع پر انہوں نے اپنی خطابت۔قوت استدلال اور قانونی موشگافیوں کے ایسے جوہر دکھائے ہیں کہ مخالفین بھی عش عش کر اٹھے۔,, وو