اصحاب احمد (جلد 11) — Page 2
2 کی بدعات سے سخت نفرت تھی۔ماتم کے موقع پر عورتوں کی جزع فزع کو بہت بُرا منایا کرتے اور اس سے بڑی سختی سے روکا کرتے تھے۔حکام کے ساتھ ان کا برتاؤ تو اضع لیکن وقار کا ہوا کرتا تھا اور حکام بھی ان کا احترام کیا کرتے تھے۔مہمان نوازی اور غریب پروری ان کا خاص شعار تھے۔گو جن حالات میں سے انہیں بچپن سے گذرنا پڑا تھا ، اُن کے نتیجہ میں خود انہیں تنگی سے گزرنا پڑتی تھی۔لیکن اس کا اثر وہ مہمانوں کی تواضع پر پڑنے نہیں دیتے تھے۔ان کا معمول تھا کہ عشاء کی نماز کے بعد رات کے کپڑے پہن کر وہ مہمان خانے میں چلے جاتے اور ایک خادم کے طور پر مسافروں اور مہمانوں کی خدمت کیا کرتے تھے اور تہجد کے بعد بھی مہمانوں کی خبر گیری کیلئے مہمان خانے میں جو مسجد کے ساتھ ملحق تھا ، چلے جاتے تھے۔ایک دن فجر کے وقت مہمان خانہ کے خادم نے اطلاع دی کہ ایک مسافر جس نے مہمان خانہ میں رات بسر کی تھی غائب ہے اور اس کے بستر کا لحاف بھی غائب ہے۔تھوڑی دیر کے بعد یہ لوگ اس مسافر کو لحاف سمیت پکڑے ہوئے آپ کے سامنے لے آئے۔آپ نے دریافت کیا میاں تم نے ایسا کیوں کیا ؟ مسافر نے جواب دیا۔حضور۔ہم گھر میں بچوں سمیت چار نفوس ہیں۔سردی کا موسم ہے اور ہمارے گھر میں صرف ایک لحاف ہے۔آپ نے کہا اسے چھوڑ دو۔اور وہ لحاف بھی اسے دے دیا اور تین روپے نقد دیکر اسے رخصت کیا۔اُن کی مہمان نوازی اور سخاوت کی وجہ سے تمام علاقہ میں بلکہ اردگرد کے اضلاع میں بھی لوگ اُن کا نام عزت و احترام کے ساتھ لیا کرتے تھے۔خاکسار مؤلف کو بھی سردار ہربنس سنگھ صاحب ساہی نے کئی بار اس تعلق میں بتایا کہ چوہدری سکندرخاں صاحب مرحوم تھکے ماندے مہمانوں کا جسم دبانے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔بلکہ اسے باعث افتخار جانتے تھے۔اور چونکہ مہمان ان کو خادم سمجھتے تھے اسلئے بعض دفعہ ناجائز بحکم اور درشتی سے پیش آتے۔لیکن مرحوم اسے بطیب خاطر برداشت کرتے تھے۔* شادی اور سسرال کے حالات : محترم چوہدری نصر اللہ خان صاحب کی شادی محترمہ حسین بی بی صاحبہ سے ہوئی جن کی ولادت سردار صاحب کی سکونت ڈسکہ کی ہے۔تقسیم ملک کے بعد بمقام دسوہہ ضلع ہوشیار پور مقیم ہیں۔