اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 74 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 74

74 ہوگی۔اور اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ خود غیر مسلموں میں پھوٹ پڑنے لگی۔اونچی جانتیوں کے افراد نو آریوں سے کھان پان پر راضی نہ ہوتے تھے بلکہ جو کھان پان کر لے ، اس کا مقاطعہ کرتے تھے۔فسادات کے باعث لیڈروں نے صلح کا نفرنس کی۔احمدی وفد کے پہنچنے سے قبل قریباً یہ طے ہو چکا تھا کہ مسلم و غیر مسلم مبلغین اور پر چارک اس علاقہ سے واپس آجائیں۔مولا نا محمد علی جو ہر ، ڈاکٹر انصاری اور حکیم اجمل خاں مرحوم کی برقیہ درخواست پر حضرت امام جماعت احمدیہ ( ایدہ اللہ تعالیٰ ) کی طرف سے بھی ایک وفد دہلی پہنچا۔ہدایات کے مطابق اس نے یہ نقطۂ نظر پیش کیا کہ تمام شدھی شدہ افراد کو ہم اسلام میں واپس لائے بغیر دم نہ لیں گے۔اور جب تک شدھی ہوا ایک متنفس بھی باقی ہے ہم میدان سے واپس آنے کا نام تک نہیں لے سکتے۔اس پر دیگر مسلمانوں نے کہا بھی کہ اگر احمدی نہیں مانتے تو کیا ہوا۔آئیے ہمارے ساتھ صلح کیجئے۔لیکن سوامی شرد ہانند جی بھلا اس پیشکش کو کیسے تسلیم کرتے۔جبکہ ان کو معلوم تھا کہ کونسی جماعت کے مجاہدین حقیقی معنوں میں شدھی پن کا استیصال کررہی ہے۔البتہ بشمول حضرت خان ذوالفقار علی خاں صاحب (نمائندہ جماعت احمد یہ ایک تحقیقاتی کمیٹی کا تقرر عمل میں آیا۔جو دو ماہ کے اندر تمام مقامات کا معائنہ کر کے آل انڈیا کانگرس کے پاس رپورٹ کرے کہ ان فسادات کی تہ میں کن لوگوں کا ہاتھ ہے۔اس کمیٹی کے سیکرٹری ایک غیر مسلم تھے ، وہ سمجھتے تھے کہ فسادات کے حقیقی ذمہ دار کون ہیں۔اس لئے انہوں نے نہ کبھی کمیٹی کو اطلاع دی ، نہ دورہ کیا گیا۔نہ حالات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی گئی ، نہ کبھی اس کمیٹی سے جواب طلبی کی گئی کہ اسے کیوں رپورٹ پیش نہیں کی۔* اسلام پر ایسا نازک وقت آیا۔لیکن افسوس کہ علماء کہلانے والوں نے اس وقت بھی اس علاقہ میں اس پر چار میں اپنے ایمان کے دیوالیہ پن کا اظہار کرنا شروع کیا کہ تم لوگ آریہ اور ہندو بن حضرت خاں صاحب موصوف۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی بھی دہلی صلح کا نفرنس میں شامل ہونے والے وفد کے رکن تھے۔البتہ چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو بھی حضور نے مقرر فرمایا تھا لیکن وہ وہاں نہیں پہنچ سکے۔کوشش کی جائے گی کہ حضرت نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب ، حضرت مرزا شریف احمد۔6 صاحب اور حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال میں سے کسی کے سوانح میں جہاد ارتداد ملکانہ کی مساعی کے متعلق مفصل تذکرہ کیا جائے۔واللہ با التوفیق۔