اصحاب احمد (جلد 11) — Page 75
75 جاؤ۔احمدی ہونے سے اچھا ہے۔احمدی ہرگز نہ ہونا۔پتھر پڑیں صنم تیرے ایسے پیار پر غیر مسلم تو پھوٹ ڈلوانے کے لئے اپنے اخبارات میں مسلمان علماء سے فتاویٰ منگوا کر شائع کرنے لگے کہ احمدی مسلمان نہیں اور مسلمان علماء بھی ان کے آلہ کار بن گئے۔ہر جگہ مخالفت کرنے لگے۔ہر چند ان سے مصالحانہ رویہ اختیار کیا گیا۔علاقے تقسیم کئے گئے۔تبادلۂ خیالات کی تجاویز پیش کی گئیں۔علاقوں کی تقسیم میں مرتدین کے ایک دوسرے سے دور اور ٹکڑے ٹکڑے علاقے قبول کئے گئے اور تکلیف برداشت کی گئی۔ادھر غیر مسلم حکام نے احمدی مبلغین اور اسلام میں داخل ہونے والوں کا قافیہ تنگ کر دیا۔مثلاً ریاست بھر تیپور نے ایک طرف یہ اعلان کیا کہ ریاست میں تبلیغ کی آزادی ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی پابندی لگا دی کہ ایسا کوئی شخص صبح سے شام تک ریاست میں رہ سکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔اس پر بھی احمدی مجاہدین وہاں پہنچتے اور پھر واپس آجاتے۔سرحدات پر اڈے جمائے۔افسران ریاست سے ملے۔لیکن انہوں نے ایسے نا معقول حکم کو واپس لینے سے انکار کر دیا۔شدھی کی آڑ میں چلائی گئی سیاسی چال کو نہ سمجھے تو یہ بہی خواہانِ اسلام۔“! جبکہ پنڈت نہرو ہندو ہونے کے باوجود اسے سمجھ گئے۔پنڈت جی نے کہا تھا کہ : ”میرا یہ خیال درجہ یقین تک پہنچ گیا ہے کہ اس تحریک کی غرض و منشاء سیاسی ہے۔اس لئے میں تحریک سے اتفاق نہیں کرتا۔کیونکہ اس تحریک کا نتیجہ ایک اور محض ایک ہے۔اور وہ یہ ہے کہ یہ تحریک ہندوستان کی تمام قوموں اور ۵۲ جماعتوں کی بربادی اور تباہی کا باعث ہوگی۔جماعت احمدیہ کے وفد پر وفد جانے کے نتیجہ میں ہندوستان کے تمام غیر مسلموں پر دھاک بیٹھ یہ حالات کارزار شدھی مؤلفہ ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم ، اور الفضل ۲۳-۵-۳۱ ،۲۳-۶-۱۱، ۹-۲۳ - ۱۱ سے لئے گئے ہیں۔حاشیہ: - کوشش کی جائے گی کہ حضرت نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب ، حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال میں سے کسی کے سوانح میں جہاد ارتداد ملکانہ کی مساعی کے متعلق مفصل تذکرہ کیا جائے۔واللہ با التوفیق۔