اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 64 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 64

64 پہنچا دوں گا۔مجھے جماعت کی ٹیوٹیوریل کمپنی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔* تحفہ لارڈارون: تخته لا را ارون رقم کرد و حضرت خلیفتہ اسیح الثانی اید واللہ تعالی خو بصورت کا سکٹ میں ایک دفد کے ذریعہ لارڈارون وائسرائے ہند کی خدمت میں ۸/ اپریل ۱۹۳۱ء کو دہلی میں پیش کیا گیا۔یہ وفد چوہدری فتح محمد صاحب سیال ناظر اعلیٰ ، مولانا عبدالرحیم صاحب درد قائم مقام ناظر امور خارجه ( رضی اللہ تعالیٰ عنہما ) اور چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب پر مشتمل تھا۔اس تبلیغی رسالہ کے آغاز میں حضور نے اصولی طور پر مسلمانانِ ہند کے حقوق کی طرف بھی پر زور الفاظ میں توجہ دلائی تھی۔اور دس ہزار افراد جماعت نے ایک ایک آنہ دے کر اس میں شرکت کی تھی۔با قاعدہ شوری کا آغاز : ۴۳ لَا خِلافَةَ إِلَّا بِالْمَشُورَةِ کے مطابق مشورہ خلافت کے ساتھ لازم ہے۔سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹۲۲ء میں با قاعدہ شوری کا آغاز فرمایا۔اس سال ۱۵ و ۱۶ را پریل کو اس کا انعقاد عمل میں آیا۔حضور نے بیان فرمایا کہ آمُرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمُ مسلمانوں کا شیوہ ہے۔نیز شوری کی غرض اور دیگر کانفرنسوں اور شوریٰ میں کیا فرق ہے۔بتاتے ہوئے فرمایا، کہ سابقہ کانفرنسیں سیکرٹری صدر انجمن کی طرف سے بلائی جاتی تھیں ، ان سے دو خیالات پیدا ہوئے۔کانفرنس کے احباب نے سمجھا کہ کانفرنس فائق ہے۔اس کا فیصلہ قطعی ہے اور مجلس معتمدین اس کے تابع ہے۔صدر انجمن چاہتی تھی کہ فیصلہ انجمن کا ہی ناطق ہو۔اور جماعت کی رائے کو اپنے ساتھ ملا کر پھر خلافت سے پیٹیں۔لیکن چونکہ کانفرنس کے لئے مدعو احباب انجمن ہی کے خلاف ہو گئے ،اس لئے انجمن نے کانفرنس کو توڑ دیا۔☆ الفضل ۲۳-۱۱-۱۶ و الحکم ۲۳-۱۱-۱۴ یہ وفد نو افراد پرمت ر مشتمل تھا۔جن میں سے اب صرف حضرت مرزا بشیر احمد صاحب زندہ ہیں۔مَتَّعَنَا اللهُ بِطُولِ حَيَاتِهِ ( آمین ) وفد سے ملاقات کا مختصر ذکر الفضل ۲۳-۱۱-۱۳ میں بھی زیر مدینہ اسیح " " مرقوم ہے۔جیسا کہ ایک گذشتہ جلد میں ذکر کیا گیا ہے قادیان میں بٹالہ سڑک تقسیم ملک کے بعد پکی بن چکی ہے۔