اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 49 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 49

49 ایک دفعہ لاہور میں آپ مجھ سے تفسیر فوز الکبیر مصنفہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب پڑھا کرتے تھے۔اثناء سلسلہ کلام فرمانے لگے۔ایک دفعہ میں لندن کے بازار میں جارہا تھا۔تو میری زبان پر گورو نانک صاحب کا یہ اشلوک جاری تھا اور ساتھ ہی میرے آنسو بہ رہے تھے۔وہ اشلوک یہ تھا ڈتھا نور محمدی ڈٹھا نبی رسول نانک قدرت دیکھ کے خودی گئی سب بھول“ تمام افراد خاندان خلافت ثانیہ کی بیعت میں : محترم چوہدری صاحب نے اطلاع ملنے پر فوراً بیعت خلافت ثانیہ کر لی تھی۔والدین کے تعلق میں تحریر فرماتے ہیں: مارچ ۱۹۱۴ء میں جب خاکسار ابھی انگلستان ہی میں تھا۔حضرت خلیفہ المسح الاول رضی اللہ عنہ کا وصال ہو گیا۔والد صاحب نے خاکسار کو لکھا کہ حضور کی وفات پر جماعت میں یوں اختلاف ہو گیا ہے۔یہ ایمان کا معاملہ ہے۔میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ تمہیں کیا کرنا چاہیئے۔صرف اتنا کہتا ہوں کہ جو کچھ کر وہ غور اور فکر کے بعد کرنا۔جلدی نہ کرنا۔اور والدہ صاحبہ نے خاکسار کو یہ لکھوایا کہ جماعت میں یہ طوفان برپا ہو گیا ہے۔میں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ( ایدہ اللہ بنصرہ) کی بیعت کر لی ہے اور تمہارے بھائیوں اور بہن کی طرف سے بھی بیعت کا خط لکھوا دیا ہے۔تمہیں نصیحت کرتی ہوں کہ اگر ابھی تم نے بیعت کا خط نہیں لکھا تو اب فورا لکھ دو۔تاخیر ہرگز نہ کرنا۔قارئین کرام کے ازدیاد ایمان کے لئے خواجہ کمال الدین صاحب کے متعلق چوہدری صاحب کا PA بیان ذیل میں درج کرتا ہوں۔تحریر فرماتے ہیں: ” میرے انگلستان جانے کے ایک سال بعد خواجہ کمال الدین صاحب بھی انگلستان تشریف لے گئے۔۱۳ ۱۹۱۲ء کی سردیوں کا کچھ عرصہ تو خواجہ صاحب اسی مکان میں مقیم بھی رہے جس میں میری رہائش تھی۔اسی دوران میں خواجہ صاحب بعض دفعہ خلافت کا تذکرہ بھی چھیڑ دیتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ خواجہ صاحب نے فرمایا خلافت کا بھی ( حضرت ) مولوی (صاحب ) کے بعد تنازعہ ہی ہو گا۔آخر اس منصب کے اہل کون ہیں؟ محمود لیکن وہ بچہ ہے۔محمد علی ہے وہ بہت حساس ہے۔ذرا ذراسی بات پر رو پڑتا ہے۔اور میں ہوں لیکن مجھ میں یہ نقص ہے کہ سچی بات منہ پر کہہ دیتا