اصحاب احمد (جلد 11) — Page 33
33 عہد ٹوٹتا ہے۔( میں تو صرف زیارت کے لئے جا رہی ہوں۔ورنہ جب میں نے خواب میں آمین اور الحمد للہ کہا تھا۔میری بیعت تو اُسی وقت ہو چکی تھی۔) اور اگر یہ وہ نہیں ہیں۔تو پھر آپ تحقیقات کرتے رہیں میں بھی غور کرلوں گی۔والد صاحب نے پھر سمجھانے کی کوشش کی کہ کوئی قطعی فیصلہ بغیر مزید مشورہ کے نہ کریں۔(دیکھنا کہیں گھر میں کوئی اور جھگڑا نہ پیدا ہو جائے۔) اور یہ نصیحت کر کے کچہری چلے گئے۔والدہ صاحبہ دو پہر کے کھانے کے بعد بصد شوق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فرود گاہ کی طرف ( والدہ صاحبہ اور تائی صاحبہ کے ساتھ ) روانہ ہوئیں۔رستہ اور مکان کی ہیئت سے والدہ صاحبہ نے پہچان لیا کہ یہ وہی مکان ( راستہ اور وہی بزرگ ہیں۔اور اسی طرح برآمدہ میں ٹہل رہے تھے اور کاپی پر کچھ تحریر فرما رہے تھے ) جیسا انہوں نے خواب میں دیکھا تھا۔” جب والدہ صاحبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں شرف باریابی کے لئے حضرت میر حامد شاہ صاحب مرحوم کے مکان پر حاضر ہوئیں تو خاکسار بھی انکے ہمراہ تھا ( حضرت ام المومنین کی خدمت میں حاضر ہو کر اُنہوں نے عرض کی کہ حضور کی خدمت میں پیغام بھیج دیں کہ چود ہری نصر اللہ خاں کے گھر سے آئے ہیں اور ملنا چاہتے ہیں۔حضرت ام المومنین نے والدہ منشی شادی خان المعروف دادی صاحبہ کے ذریعہ حضرت صاحب کی خدمت میں پیغام بھیجا۔حضور نے پوچھا کہ بیعت کرنے آئے ہیں یا زیارت کرنے۔والدہ صاحبہ نے عرض کی کہ بیعت کرنی ہے ) حضور اُس وقت مکان کی چھت پر تشریف رکھتے تھے اور غالبا لیکچر سیالکوٹ کی تیاری میں مصروف تھے۔حضور نے کہلا بھیجا کہ تھوڑی دیر میں تشریف لائیں گے۔تھوڑے ہی وقفہ کے بعد حضور تشریف لے آئے۔اور ایک پلنگ پر جو وسط صحن میں بچھا ہوا تھا، تشریف فرما ہوئے۔والدہ صاحبہ چند دیگر مستورات کے ساتھ ایک چوبی تخت پوش پر جو اس پلنگ کے قریب دو گز کے فاصلہ پر بچھا ہوا تھا بیٹھی تھیں۔جب حضور پلنگ پر تشریف فرما ہو گئے۔تو والدہ صاحبہ نے عرض کیا۔”حضور میں بیعت کرنا چاہتی ہوں۔حضور نے فرمایا۔” بہت اچھا۔‘ اور والدہ صاحبہ نے بیعت کر لی۔یہ وقت ظہر کا تھا۔مکان پر واپس پہنچ کر والدہ صاحبہ نے مجھے کچھ اچار دیا اور کہا کہ یہ حضرت اُم المومنین کی خدمت میں پہنچا دو۔کیونکہ آپ نے اچار سے رغبت ظاہر کی تھی۔اور والدہ صاحبہ نے عرض کیا تھا کہ