اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 365 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 365

365 وو ۲۲-۵-۱۹۵۵ کو زیورچ سے جو پیغام جماعت کے نام ارسال فرمایا۔اس میں رقم فرماتے ہیں : سالہا سال کی بات ہے میں نے خواب دیکھی تھی اور وہ اخبار میں کئی بار چھپ بھی چکی ہے۔میں نے دیکھا کہ میں کرسی پر بیٹھا ہوں اور سامنے بڑا قالین ہے۔اور اس قالین پر عزیزم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ، عزیزم چوہدری عبداللہ خان صاحب اور عزیزم چوہدری اسد اللہ خان صاحب لیے الفضل ۵۵-۵-۲۱ (صفحه ۵ کالم۱) و ۵۵-۶-۸ (صفحه۳) و ۵۵-۵-۲۹ (صفحها) ۳۰-۴-۵۵ کو حضور بذریعہ طیارہ دمشق میں نزول فرما ہوئے۔علاوہ جماعت احمدیہ چوہدری صاحب کے باعث سفیر پاکستان سید لال شاہ بخاری مع سٹاف استقبال کے لئے موجود تھے۔ہوائی سفر میں چوہدری صاحب حضور کے ساتھ کی سیٹ پر تشریف فرما تھے اور خدمت کے لئے بیدا ر ر ہے۔دمشق میں حضور نے رات کو گھبراہٹ کے باعث چوہدری صاحب کو بلوانے کے لئے کہا کہ شاید ہمیں یہیں سے واپس جانا پڑے۔رات چوہدری صاحب فون پر نہ مل سکے۔صبح فون ہوا تو آئے اور حضور سے باتیں کرتے رہے اور آہستہ آہستہ حضور کی طبیعت سنبھل گئی اور چوہدری صاحب و بعض دیگر افراد کی معیت میں حضور کچھ وقت کے لئے سیر کو اور پھر ایک دوست کے ہاں دعوت پر تشریف لے گئے۔اس سفر کے متعلق حضور نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو اپنے مکتوب میں تحریر فرمایا : - چوہدری صاحب ساری رات مجھے کمبلوں سے ڈھانکتے رہے۔۔۔میں ۱۷۲ 121 نے چوہدری صاحب کی طرف دیکھا تو ان کا چہرہ مجھے بہت نڈھال نظر آیا۔۔۔۔چوہدری صاحب نے قہوہ منگوا کر دیا۔۱-۵-۵۵ کو حضور تین چار میل کے فاصلہ پر ایک باغ میں تشریف لے گئے۔چوہدری صاحب بھی ساتھ تھے۔پروگرام یہ طے ہوا کہ حضور بیروت اور وہاں سے روم کے راستہ جنیوا جائیں گے اور چوہدری صاحب روم تک ساتھ ہوں گے۔سید منیر مالکی کے ہاں ۵۵-۵-۵ کو حضور کی دعوت میں چوہدری صاحب بھی مدعو تھے۔اگلے روز حضور کچھ دیر مجلس میں رونق افروز رہے۔جس میں تلاوت قرآن مجید کے علاوہ حضرت مسیح موعود کا ایک قصیدہ پڑھا گیا اور ایک دوست نے اپنا قصیدہ پڑھا اور بالآ خر دُعا ہوئی۔چوہدری صاحب بھی اس تقریب میں شامل تھے۔