اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 348 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 348

348 مدینہ منورہ کی زیارت : آپ تحریر کرتے ہیں : پچھلا عریضہ لکھنے کے بعد خاکسار بذریعہ موٹر مدینہ منورہ حاضر ہوا۔ساڑھے سات بجے شام جدہ سے روانہ ہو کر ایک بجے بعد نصف شب مدینہ منورہ پہنچے ۲۴ تاریخ کو وہاں ٹھہرے۔تین بار مسجد نبوی میں حاضر ہو کر نفل ادا کر نے اور روضہ اطہر پر دعا کرنے کی توفیق نصیب ہوئی۔فَالْحَمْدُ اللهُ عَلَى ذَلِكَ ” جنت البقیع میں حاضر ہو کر دعائیں کیں۔احد اور مسجد قبلتیں اور مسجد قباء میں دعائیں کیں دونوں مساجد میں نفل بھی ادا کئے ) ۲۵ کی صبح کو فجر کی نماز کے بعد مدینہ منورہ سے روانہ ہو کر رستہ میں بدر کے مقام پر نصف گھنٹہ ٹھہرے اور دعا کی۔ساڑھے دس بجے واپس جدہ پہنچے۔۲۶ کی صبح کو فجر کے بعد تیسری بار مکہ مکرمہ میں حاضر ہوا۔اور دوبارہ عمرہ ادا کیا۔اس بار صفا اور مروہ کے درمیان ننگے پاؤں سعی کی۔اور چونکہ اب کی بار بالکل اکیلا تھا۔اس لئے دعاؤں کی طرف زیادہ توجہ کی توفیق ملی۔فالحمد لله على ذالک (الفضل ۵۸-۴-۲۳) خلافت سے وابستگی اور اخلاص: رض حضرت خلیفتہ المسیح اول کو آپ کے اخلاص کا یقین تھا۔۱۹۱۲ ء میں حضرت ڈاکٹر عباداللہ صاحب لندن میں تھے ، اسوقت وہاں ڈاکٹر صاحب سمیت صرف تین احمدی تھے۔دوسرے دو چوہدری صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب۔حضرت خلیفہ اول نے ۲۲ اکتوبر ۱۹۱۲ ء ڈاکٹر صاحب کے نام مکتوب میں رقم فرمایا : وہاں ایک لڑکا شکر اللہ کا بھائی ظفر اللہ خاں ہے چوہدری نصر اللہ خاں کا 1415 بیٹا۔وہ مخلص ہیں۔اسکو کبھی ملنا۔خط لکھ دینا۔آپکو آ کر ملیگا۔اسوقت آپ کی عمر انیس سال کے قریب تھی۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ آپ شروع سے خلافت کے دامن سے پورے اخلاص سے وابستہ