اصحاب احمد (جلد 11) — Page 345
345 ہوائی جہاز بھجوا دے۔مگر مسٹر چرچل بھی قیاس سے یہ نہیں کہہ سکتے تھے۔کہ امریکہ ۲۸ سو ہوائی جہاز بھجوائے گا۔اور نہ دنیا کا کوئی انسان محض عقل سے کام لیکر یہ تعداد معین کر سکتا تھا۔رؤیا کے تیسرے مہینے ( دہلی سے فون آیا )۔۔۔سر ظفر اللہ کی آواز آئی جو کانپ رہی تھی کہ مبارک ہو۔میں نے کہا خیر مبارک۔مگر مجھے پتہ نہیں لگ سکا یہ کیسی مبارک ہے۔انہوں کہا آپ کو یاد ہے آپ نے مجھے ایک رو یا سنایا تھا کہ امریکہ سے تار آئی ہے کہ اس نے برطانیہ کی مدد کیلئے ۲۸ سو ہوائی جہاز بھجوائے ہیں۔میں نے کہا مجھے خوب یاد ہے وہ کہنے لگے مبارک ہو۔اس وقت تار میرے سامنے پڑی ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں کہ : The Britist Representation form America wises that the American government has dedired 2800 aeroplanes to the British government۔پھر انہوں نے کہا کہ جس وقت یہ تار مجھے ملی۔میں نے اُسی وقت ان سرکاری حکام کو فون کیا جن کو میں نے یہ خواب بتائی ہوئی تھی اور ان سب کو یاد دلایا کہ دیکھو امام جماعت احمدیہ کی جو خواب میں نے تم کو بتائی تھی وہ آج کس شان کے ساتھ پوری ہوگئی۔انہوں نے بتایا کہ میں نے سرکلو کو بھی فون کیا کہ تم کو معلوم ہے کہ امام جماعت احمدیہ کی میں نے تمہیں ایک خواب بتائی تھی۔بعض دفعہ خدا تعالیٰ انسان سے غلطی کر دیتا ہے تا کہ اس پر زیادہ حجت ہو۔سرکلو کہنے لگے ظفر اللہ خاں تار تو آئی ہے مگر جہازوں کی جتنی تعداد تم نے بتائی تھی اتنی تعداد کا تار میں ذکر نہیں۔ظفر اللہ خان کہتے ہیں۔میں نے کہا تمہیں کیا یاد ہے۔وہ کہنے لگے تم نے ۲۸ سو ہوائی جہازوں کا ذکر کیا تھا اور تار میں ۲۵ سو ہوائی جہاز بھجوانے کا ذکر ہے۔انہوں نے جلدی سے ۲۸ سوکو ۲۵ سو پڑھ لیا۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کہنے لگے تمہارے پاس تا ر ہے۔وہ کہنے لگے ہاں میرے سامنے ہی پڑی ہے۔چوہدری صاحب کہنے لگے اسے پھر پڑھو۔سرکلو نے دوبارہ تار پڑھی۔تو کہنے لگے۔او ہوظفر اللہ خاں یہ ۲۸ سو ہوائی جہازوں کا ہی ذکر ہے۔۲۰ ستمبر ۱۹۴۰ء کے قریب کی بات ہے کہ حضور ایدہ اللہ تعالی شملہ میں محترم چوہدری صاحب کے ہاں مقیم تھے۔حضور نے لیبیا کے محاذ کے متعلق رویا دیکھا کہ انگریزی فوج کمزور حالت میں ہے اور میں ان کی مدد کیلئے جوش محسوس کرتا ہوں۔اور میں نے بھی فائر کئے جس کے بعد انگریزی فوج اٹلی کی فوج کو دبانے لگی اور دوسرے سرے تک لے گئی۔اس وقت آواز آئی کہ ایسا دو تین بار