اصحاب احمد (جلد 11) — Page 323
323 سرکاری وکیل نے جواباً کہا کہ اگر فاضل جج چاہیں تو ملحقہ بارہ دیہات کو حکم سے حذف کیا جا سکتا ہے۔چوہدری صاحب نے کہا کہ یہ حکم بالکل خلاف قانون ہے۔اگر مقامی لوگوں کو حدود کا پتہ بھی ہو۔تب بھی باہر سے آنے والے لوگوں کو کس طرح پتہ چل سکتا ہے۔جبکہ حدودا چھی طرح متعین نہیں یہ حکم بہر حال قانون کے پابند لوگوں کی آزادی کے خلاف ہے۔قادیان جماعت احمدیہ کا مذہبی مرکز ہے۔احمد یوں کو وہاں عملی ، مذہبی اور سیاسی ہر قسم کی ضروریات کے لئے جمع ہونا پڑتا ہے۔لیکن اگر کوئی شخص گھر میں چند ا حباب کو بلا کر بھی اجتماع کرے تو قانون کی زد میں آجائے گا۔یہ حکم بیحد مبہم ہے۔اس میں قانونی معقولیت موجود نہیں اسلئے اسے منسوخ کیا جائے۔(الفضل ۳۵_۳۰۳) ہائی کورٹ کے فاضل جج جسٹس ایم۔ایم۔ایل۔کری نے جو فیصلہ صادر کیا جس کی رو سے قادیانی سمال ٹاؤن اور قادیان ریو نیواسٹیٹ اور اس سے ملحقہ ر یو نیواسٹیوں میں پبلک جلسہ یا پانچ سے زیادہ اشخاص کا پبلک اجتماع ممنوع قرار دیا گیا۔سوائے ان اجلاسوں کے جو مذہبی ہوں اور معین عبادت گاہوں میں کئے جائیں۔اسکے خلاف اپیل سیشن جج نے نامنظور کر دی۔مرافعہ میں ہائی کورٹ میں سرکاری وکیل کا یہ خیال تھا کہ اب اس حکم میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔کیونکہ جس عرصہ کے لئے یہ حکم نافذ کیا گیا تھا وہ تقریبا ختم ہو چکا ہے۔چوہدری ظفر اللہ خاں کا خیال تھا کہ یہ امر تقریباً ناممکن تھا کہ اس سوال کو سیشن جج کی عدالت کے فیصلہ کے بعد ہائی کورٹ میں اتنا عرصہ گذر جانے سے پہلے لایا جا سکتا۔فیصلہ حاصل کرنے پر زور دیا۔میری رائے میں ایسے مقدمہ میں حکم کی موزونیت پر غور کیا جانا ضروری ہے۔جس بناء پر اس حکم پر اعتراض کیا گیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ نہایت مہم ہونے کہ وجہ سے یہ حکم سب سیکشن نمبر ۳ کے منشاء کے خلاف ہے۔مسٹر ظفر اللہ خاں کا دعویٰ ہے کہ اس دفعہ کے ماتحت پبلک کو عام طور پر حکم صرف اسی وقت دیا جا سکتا ہے جب وہ ایک معین مقام پر بار بار جمع ہوتے ہوں۔ان کی دلیل یہ ہے کہ سمال ٹاؤن اور ر یو نیواسٹیٹ قادیان اور ان سے ملحقہ ریونیواسٹیٹیوں کے الفاظ کسی جگہ کو معین نہیں کرتے۔ان حالات میں موجودہ معاملہ میں میرا یہ خیال ہے کہ حکم زیر بحث جہاں تک اس کا تعلق قادیان کے نواحی ریونیو اسٹیوں سے ہے اس قدر مہم ہے کہ یہ نا واجب العمل ہے۔اس حکم میں نواحی کے بارہ گاؤں کے نام درج نہیں کئے گئے۔اور میرے نزدیک پبلک سے یہ امید رکھنا ایک غیر معقول بات ہے کہ انہیں ریونیو اسٹیٹ کی حدود کے متعلق اس قدر گہرا علم ہو کہ وہ معلوم کر سکیں کہ کوئی جگہ کسی