اصحاب احمد (جلد 11) — Page 298
298 تعجب کا اظہار کیا کہ کیوں مسلمان جماعت احمدیہ کی اسلام دشمنی ، بھول گئے ہیں۔(الفضل ۱۲/۷/۲۷) سوامی شردھانند کے جاری کردہ اخبار تیج نے جو لکھا ، اس سے حضور کی تحریک کی کامیابی بقیہ حاشیہ: - چوہدری ظفر اللہ خاں :۔یہ صحیح ہے۔لیکن مجلس واضع قوانین کے مفروضات کے آپ پابند نہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہر روز عدالت ہائے عالیہ سے ایسے فیصلے صادر ہوتے رہتے ہیں جن میں یہ قرار دیا جاتا ہے کہ فلاں ایکٹ یا فلاں دفعہ کے پاس کرنے میں غرض تو یہ تھی لیکن وہ غرض پوری نہیں ہوئی۔اور ایسے فیصلہ جات کی بناء پر آئے دن قوانین میں ترمیم کی ضرورت پڑتی ہے اور ترمیم ہوتی رہتی ہے۔چنانچہ حکومت نے ایک محکمہ اس غرض کے لئے قائم کر رکھا ہے کہ ایسے فیصلہ جات کے نتیجہ میں جوتر میمیں قانون میں ضروری ہوں ان کے متعلق مسودے تیار کرتا رہے۔اس لئے میں یہ عرض کروں گا کہ واضعانِ قوانین کا کسی بات کو فرض کر لینا اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ قانون وہی ہے جو فرض کیا گیا ہے۔اور یہ بات ہر روز کے مشاہدہ اور تجربہ سے ثابت ہے۔میرے فاضل دوست نے میکسویل کی کتاب کے صفحہ ۵۷ کا حوالہ دیا ہے۔لیکن آپ کے سامنے کسی ایکٹ کی تعبیر کا سوال پیش نہیں ہے۔اس لئے میں یہ مجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ حوالہ کیسے متعلق ہوسکتا ہے۔میرے فاضل دوست نے خود ہی یہ دعویٰ میرے ذمہ لگایا ہے کہ میں نے اپنی بحث کے متعلق جدت کا ادعا کیا ہے، اور خود ہی اسکی تردید کی ہے کہ اس بحث میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔حالانکہ مجھے قطعاً یہ دعویٰ نہیں کہ میں نے کوئی اچنبھے کی بات نکالی۔میری رائے میں جو مسئلہ میں نے پیش کیا ہے ، وہ یقیناً قابل بحث ہے۔اور اس کامل اجلاس کا انعقاد ایک ایسا موقع تھا جس میں اس مسئلہ کا فیصلہ ہونا چاہیئے تھا۔اس لئے میں نے یہ مسئلہ پیش کر دیا۔کسی قسم کی جدت کا ادعا میں نے نہیں کیا۔مسٹر جسٹس براڈوے:۔اس امر کے اعادہ کی حقیقتاً کیا ضرورت ہے؟ چوہدری ظفر اللہ خاں :۔کوئی ضرورت نہیں محض اسی لئے اس کا اعادہ کرنا پڑا کہ میرے فاضل دوست نے خوامخواہ ایک بات میرے ذمہ تھوپ دی۔میرے فاضل دوست نے آخر میں یہ بھی بحث کی کہ انہیں یہ تسلیم ہے کہ چیف کورٹ پنجاب کو توہین عدالت کے متعلق اختیارات حاصل نہیں تھے۔میں یہ کہتا ہوں کہ اگر ان میں ایسے اختیارات حاصل تھے، تو ۵۴ سال کے عرصہ میں ان اختیارات کے استعمال کی کوئی نظیر بھی ہمیں ملنی چاہیئے تھی۔