اصحاب احمد (جلد 11) — Page 291
291 کرنی چاہیئے ، جو مفاد اسلام کے منافی ثابت ہو۔ہمیں جیل کی دیواروں سے سبق حاصل کرنا چاہیئے۔بقیہ حاشیہ: - قانون سے ماخوذ نہیں بلکہ محض کا من لاء کی بناء پر استعمال کئے جاتے ہیں۔اس فیصلہ سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ توہین عدالت سے متعلقہ اختیارات کامن لاء اور صرف کامن لا ء ہی سے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔دوسرا فیصلہ ۲۹۔الہ آباد صفحہ ۹۵ پر بھی پریوی کونسل کا فیصلہ ہے۔اس کے واقعات یہ ہیں کہ مسٹر ساسی بھوشی سر بدھی کاری جو کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ تھے۔عدالت میں کسی مقدمہ میں پیش ہوئے اور عدالت نے انہیں کسی بات پر ٹو کا۔اس پر انہیں رنج ہوا اور انہوں نے ایک مضمون اسی واقعہ کے متعلق ایک اخبار میں لکھا جس اخبار کے وہ ایڈیٹر بھی تھے۔مسٹر جسٹس براڈوے:۔کیا اس مضمون کی تفاصیل میں جانے کی کوئی ضرورت ہے؟ چو ہدی ظفر اللہ خاں :۔میں نے عمداً اس مضمون کو بیان نہیں کیا۔لیکن اس فیصلہ کی تشریح کے لئے اور اس کے واقعات کو سمجھنے کے لئے یہ بیان کرنا ضروی ہے کہ تمام قضیہ اس مضمون سے بر پا ہوا۔جو مسٹر سر بدھی کاری نے اخبار میں شائع کیا۔اس مضمون میں جو الفاظ استعمال کئے گئے ، وہ صریح اور مسلمہ طور پر ہتک آمیز تھے۔لیکن عدالت عالیہ الہ آباد نے اس مضمون کے متعلق توہین عدالت کی کارروائی نہیں کی۔بلکہ مسٹر سر بدھی کا ری کے خلاف بطور ایڈووکیٹ عدالت کے کارروائی کی گئی اور اس کے نتیجہ میں چار سال کے لئے لائسنس ضبط کر لیا گیا۔اس سے یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کا خیال تھا کہ انہیں توہین عدالت کے متعلق کا رروائی کرنے کے اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ورنہ وہ کیوں نہ ایک ایسی کارروائی کرتے ، جو بمقابلہ اس کارروائی کے جو کی گئی ، زیادہ سہل اور صریح الاثر تھی۔مسٹر جسٹس براڈوے ممکن ہے کہ ہائی کورٹ الہ آباد کے جوں کا یہ خیال ہو کہ ایک ایڈووکیٹ کا لائسنس چار سال کے لئے ضبط کر لینا اس سے زیادہ سخت سزا ہے بہ نسبت اس کے کہ توہین عدالت میں اس کو چھ ماہ کے لئے جیل بھیج دیا جائے۔چو ہدی ظفر اللہ خاں : یہ قیاس اسی صورت میں پیدا ہوگا، جب یہ فرض کر لیا جائے کہ اجلاس میں بیٹھنے اور ملزم کے عذرات سننے سے قبل ہی عدالت نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ ملزم کو فلاں سزا دی جائے گی۔مسٹر جسٹس براڈوے:۔یہ قیاس لازمی نہیں۔