اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 290 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 290

290 اندر رہتے ہوئے حضور کی ناموس کی حفاظت کے لئے کوشاں ہوں گے۔البتہ ہمیں کوئی ایسی حرکت نہیں بقیہ حاشیہ: صاف طور پر درج ہے کہ صوبہ وکٹوریہ کی سپریم کورٹ کو ابتداء سے کامن لاء کے اختیارات حاصل ہیں۔اور میں نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ جہاں تک قیاس کا تعلق ہے ، دیگر نو آبادیوں کی ہائی کورٹوں کو بھی ایسے ہی اختیارات ضرور حاصل ہوں گے۔میں یہ تو عرض کر ہی چکا ہوں کہ اس عدالت کی لیٹرز پیٹینٹ ( فرمان شاہی ) میں ایسے اختیارات درج نہیں ہیں۔باقی رہا یہ امر کہ آیا اس عدالت کو ہندوستان کے عام قانون کے ماتحت ایسے اختیارات حاصل ہیں یا کہ نہیں۔اول تو ہندوستان میں کوئی ایسا قانون جسے قانون عام یا کامن لاء سے تعبیر کیا جائے ، رائج ہی نہیں۔اور اگر ایسا کوئی قانون ہو بھی ، تو اس میں توہین عدالت کا مسلہ کبھی سننے میں نہیں آیا۔وراثتی اختیارات کی یہ حالت ہے کہ اس عدالت کی ماسبق عدالت میں عدالت چیف کورٹ پنجاب تھی۔اور وہ عدالت کورٹ آف ریکارڈ ز ہی نہ تھی۔نہ ہی اسے توہین عدالت کے متعلق کوئی سرسری اختیارات حاصل تھے۔تو میں یہ عرض کروں گاہ نہ ہی لیٹرز پیٹینٹ ( فرمان شاہی ) کے ماتحت نہ ہی وراثتی طور پر اور نہ ہی کسی عام قانون کے ماتحت اس عدالت کو موجودہ کا رروائی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔مسٹر جسٹس براڈوے:۔سید حبیب کے مقدمہ کے علاوہ ایک اور مقدمہ میں بھی اس عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہمیں یہ اختیارات حاصل ہیں۔چوہدری ظفر اللہ خاں:۔وہ فیصلہ رپورٹ نہیں ہوا۔مسٹر جسٹس براڈوے :۔رپورٹ نہ ہوا ہو گا لیکن قرار تو دیا گیا ہے۔چوہدری ظفر اللہ خاں : اب میں عدالت کی توجہ اور فیصلہ جات کی طرف منعطف کرانا چاہتا ہوں۔جن کی بناء پر یہ کہا جاتا ہے کہ اس عدالت کو یہ اختیارات حاصل ہیں۔اول تو ۱۰ کلکتہ صفحہ ۰۹ اپر یوی کونسل کا فیصلہ ہے۔یہ فیصلہ کلکتہ ہائی کورٹ کے متعلق ہے۔جو کہ پریذیڈنسی ہائی کورٹ ہے۔اور جسے کامن لاء کے اختیارات حاصل ہیں۔چنانچہ پر یوی کونسل نے اپنے فیصلہ میں صریح طور پر کہا ہے کہ تو ہین عدالت کے متعلق جو اختیارات کلکتہ ہائی کورٹ کو حاصل ہیں وہ اس عدالت کو سپریم کورٹ سے جس کی وہ جانشین ہے، وراثتاً ملے ہیں۔اور یہ اختیارات ہندوستان کے کسی