اصحاب احمد (جلد 11) — Page 289
289 کرے۔میں اپنی جماعت کی طرف سے اس امر کا اعلان کرتا ہوں کہ ہم مقدور بھر اور شرع اسلام کے بقیہ حاشیہ: تو نہیں کہہ سکتے کہ ان عدالتوں کو کامن لاء کے اختیارات حاصل تھے۔اور اگر قیاسات پر بھی اندازہ کرنا ہو تو قیاس تو یہ ہوگا کہ ان عدالتوں کو کامن لاء کے اختیارات حاصل تھے۔آپ نے فرمایا ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی نو آبادیوں کی عدالتیں ہیں۔اور میں یہ کہتا ہوں کہ یہی خود ایک وجہ ہے کہ کیوں انہیں کا من لاء کے اختیارات حاصل ہونے چاہئیں۔اول تو نو آبادیوں میں لازمی طور پر قانون انگریزی کا غلبہ ہوگا۔دوسرے جیتک بذریعہ ایکٹ ہائے وقواعد قانون کی مفصل تشریح نہ ہو جائے اور ضوابط تیار نہ ہو جائیں ، انگریزی حکومت کے ماتحت اور خصوصیت سے نو آبادیوں میں کامن لاء ہی رائج ہوگا۔اسی ملک میں آپ دیکھ لیں کہ ابتداء میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی عمل داری تھی۔اور سپریم کورٹوں کے اختیارات کا حلقہ ایک ایک ضلع کے برابر بھی نہیں تھا۔اس وقت سپریم کورٹوں کو کامن لاء کے اختیارات دئے گئے۔اس وقت کلکتہ کے سپریم کورٹ کے کل چار جج تھے۔اور اس لحاظ سے وہ بالکل چھوٹی سی عدالت تھی۔آج آپ کی عدالت کو ایک بہت بڑے صوبہ پر اختیارات حاصل ہیں اور تیرہ حج اس عدالت میں شامل ہیں۔لیکن آپ کو کا من لاء کے اختیارات نہیں دئے گئے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ابتداء میں قانون واضح نہ تھا۔اور ہر مسئلہ کے متعلق فوری قانون بنانا مشکل تھا۔اس لئے ابتداء میں جو عدالتیں قائم ہوئیں۔ان کو کامن لاء کے اختیارات دئے گئے۔تا کہ جن امور کے متعلق ہندوستان کا اپنا صریح قانون موجود نہ ہووہ مطابق انگلستان کے کامن لاء کے فیصلہ کئے جائیں۔لیکن جوں جوں قانون کی وضاحت ہوتی گئی۔اور ہندوستان کا اپنا قانون مکمل ہوتا گیا۔یہ ضرورت کم ہوگئی۔اور بعد کی قائم کردہ ہائی کورٹوں کو ایسے اختیارات دینے کی ضرورت نہ رہی۔مسٹر جسٹس براڈوے:۔لیکن ہم بھی ملک معظم کی قائم کردہ عدالت ہیں۔اور ہمارے اختیارات بھی ملک معظم سے حاصل کئے ہوئے ہیں۔چوہدری ظفر اللہ خاں :۔اس امر کو تسلیم کرنے سے کسی کو انکار نہیں۔لیکن سوال تو یہ ہے کہ آپ کو کیا اختیارات حاصل ہیں؟ میں ایک فاضل جج کے سوال کے جواب میں یہ بیان کر رہا تھا۔کہ کامن لاء کے اختیارات کا حاصل ہونا یا نہ ہونا کسی ملک یا صوبہ کی وسعت پر منحصر نہیں ہے۔اور قیاس یہی ہے کہ نو آبادیوں کی ہائی کورٹوں کو کامن لاء کے اختیارات حاصل ہیں۔چنانچہ ۴۱ کلکتہ صفحہ ۱۷۳ میں