اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 285 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 285

285 ان سے چھوت کریں۔اور مسلمانوں سے سودا خرید میں اور مسلمانوں کی دکانیں کھلوانے کی کوشش کریں، یہ مقاطعہ نہیں بلکہ اپنی قوم کو ترجیح دینا ہے۔اور اس سے ہندوؤں پر بھی اثر پڑے گا۔اور وہ اپنے دریدہ دہن لوگوں کو باز رکھیں گے۔اور حکام کے دلوں میں بھی مسلمانوں کی وقعت پیدا ہوگی کہ یہ ایک عقلمند قوم ہے۔جو شخص غصہ میں آجاتا ہے، وہ بہادر نہیں کیونکہ وہ اپنے نفس سے دب گیا۔بہادر وہ ہے جو مستقل ارادہ کر کے اس پر عمل پیرا ہونے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔وہ قوم بھی کس کام کی جو اپنے سب سے پیارے رسول کی عزت کی حفاظت کے لئے حقیقی قربانی نہیں کر سکتی۔( الفضل ۱۰/۶/۲۷) جناب خواجہ حسن نظامی صاحب نے اپنے رفقاء کو توجہ دلائی کہ حضرت امام جماعت احمدیہ کی تحریک اتحاد کو قبول کریں کیونکہ مسلمانوں کے لئے وقت بہت نازک ہے۔ایڈیٹر صاحب ” مسلم آؤٹ لک لاہور نے اپنے اخبار میں اس فیصلہ پر شدید احتجاج کیا۔اور لکھا کہ حج کنور دلیپ سنگھ کو مستعفی ہو جانا چاہیئے اور اس امر کی تحقیقات ہونی چاہیئے کہ کن حالات میں اس نے یہ فیصلہ دیا ہے۔اس پر ہتک عدالت کا مقدمہ آپ پر اور نا شر اخبار پر دائر ہوا۔اس مقدمہ کی پیروی محترم چوہدری صاحب نے کی۔اور اس کی کارروائی حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی جیسے زود نویس نے قلمبند کر کے الفضل میں شائع کی جسے حاشیہ میں درج کیا جاتا ہے۔چوہدری صاحب محترم کی قابلیت اور خدمتِ اسلام کا یہ بھی ایک شاہکا رہے۔☆ ہائی کورٹ کے فل بینچ نے ایڈیٹر و ناشر ہر دو کو اپنے حج کی ہتک کے جرم میں علی الترتیب نصف ☆ سال قید اور ساڑھے آٹھ ہزار روپیہ جرمانہ اور تین ماہ قید اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ کی سزا دی۔حضرت امام جماعت احمدیہ نے احمدی خواتین سے مجوزہ آوٹ لگ فنڈ کے لئے گیارہ صد روپیہ جمع کرنے کی تحریک کی ، پہلے ہی روز تین صد روپیہ جمع ہو گیا۔(الفضل ۶۷ - ۶ - ۲۸) ہائی کورٹ کے اختیارات سماعت مقدمہ پر بحث چوہدری ظفر اللہ خاں : پیشتر اس کے کہ واقعات مقدمہ آپ کے سامنے پیش ہوں ، میں ایک تمہیدی عذر پیش کرنا چاہتا ہوں۔اور وہ عذر یہ ہے کہ اس عدالت کو اپنی تو ہین کے متعلق سرسری کارروائی کر کے سزا دینے کا اختیار نہیں۔اس مقدمہ سے پیشتر اسی نوع کا مقدمہ یعنی ایک ایسا مقدمہ جو اس حد تک موجودہ مقدمہ سے مشابہ تھا کہ اس میں بھی ہتک عدالت کا سوال تھا۔اس کا ہائی کورٹ