اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 286 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 286

286 حضرت امام جماعت احمدیہ نے بذریعہ تار اخبارات کو یہ پیغام ارسال کیا کہ ہمارے وہ بھائی ( حضرت سید دلاور شاہ ایڈیٹر مسلم آؤٹ لک لاہور اور اس کے ناشر مولوی نور الحق صاحب ) اس مکمل بینج کے ایک فرد مسٹر جسٹس ظفر علی تھے۔افسوس وہ اس دلیل سے بھی متاثر نہیں ہوئے کہ اس عدالت عالیہ کے ایک فرد کی ہتک عزت کا مداوا تو موجود سمجھا جائے لیکن اس ذات والا صفات کی معاندا نہ ہجو کی جائے جس کا ادنی خادم کہلا نا اس عدالت کے بعض ارکان اپنے لئے ذریعہ افتخار سمجھتے ہوں تو اس عدالت کا قانونی ترکش بالکل خالی ہو۔اور ہر دو کو سزا دینے میں کوئی اختلافی نوٹ بھی نہیں دیا۔یہ تو ہوا ان کا درد حضور صلعم کی محبت کے متعلق ، اور دوسرا رخ ان کی تصویر کا یہ ہے ( جیسا کہ کتاب ہذا میں دوسری جگہ درج ہے ) کہ جب محترم چوہدری صاحب کو وائسرائے کی کونسل کا ممبر بننے پر دعوت دی گئی ، اس میں انہی سر مرزا ظفر علی نے اس لئے شریک ہونے سے انکار کر دیا کہ احمدی مسلمان نہیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔۲۲ / دسمبر کو رہائی عمل میں آئی۔اور ۲۵ / دسمبر کو قادیان تشریف لانا تھا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی قیادت میں احباب بیرون قصبہ استقبال کے لئے گئے۔اور یہ مجمع کئی گھنٹے انتظار میں رہا۔احمد یہ مدرسہ کے بوائے سکاؤٹس نے سلامی دی۔نماز عصر کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔حضور نے شاہ صاحب کو مبارکباد دی (الفضل ۳/۱/۲۸) بقیہ حاشیہ: - سے فیصلہ ہو چکا ہے۔میری مراد سید حبیب اللہ ایڈیٹر سیاست کا مقدمہ ہے۔جس کے فیصلہ کی رپورٹ ۶ لا ہور صفحہ ۵۲۸ پر موجود ہے۔اس فیصلہ میں یہ امر درج ہے کہ عدالت کو ایسے امور میں اختیارات سماعت کا حاصل ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ملزم نے اختیارات سماعت کا سوال اس مقدمہ میں نہیں اٹھایا۔عدالت نے خود بخود اس مسلہ پر غور کیا اور عدالت اس نتیجہ پر پہنچی کہ اسے اختیار ساعت حاصل ہے۔اس نتیجہ پر پہنچنے کی تائید میں دو حوالجات اس فیصلہ میں درج کئے گئے ہیں۔۱۰ کلکتہ صفحہ ۱۰۹۔اور ۲۹ الہ آباد صفحہ ۹۵۔میں اپنی تقریر کے دوران میں ان حوالجات کو عدالت کے روبرو پیش کروں گا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کروں گا کہ ان حوالجات سے یہ نتیجہ لازم نہیں آتا کہ لاہور ہائی کورٹ کو ایسے امور میں سرسری کا رروائی کرنے کے اختیارات حاصل ہیں۔پریذیڈنسی ہائی کورٹس کے علاوہ سید حبیب صاحب والا فیصلہ ہی صرف ایک فیصلہ ہے جو میری