اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 270 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 270

270 کی بارگاہ میں گناہ عظیم ہے۔آپ نے مزید بیان کیا کہ ہندوستان و برطانیہ دشمن کی نظر میں ایک ہے اور برطانوی فضائی اور بحری طاقت اور برطانوی افواج پر دولت مشترکہ کی اقوام ( مصر، ترکی ، عراق ، افغانستان، اور جزائر شرق الہند ) کی حفاظت کا دارو مدار ہے۔اور ان سب کی حفاظت کے ساتھ ہندوستان کی حفاظت وابستہ ہے۔اگر ہم اپنی حفاظت چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیئے کہ ان فوجوں کو تقویت پہنچانے کی انتہائی کوشش کریں۔کانگرسی رہنما یہ اظہار کر چکے ہیں کہ اگر اس جنگ میں برطانیہ تباہ ہو گیا تو ہندوستان کو ذلت کے ساتھ بدترین مظالم کا شکار ہونا پڑے گا۔گاندھی جی چاہتے ہیں کہ برطانیہ کانگریس کو یہ حق دے کہ وہ ہندوستان کو مساعی جنگ میں اشتراک عمل سے باز رکھنے کی ترغیب دے۔اس طرح برطانیہ کی فیاضی کی ساری دنیا قائل ہو جائے گی۔لیکن میں چاہتا ہوں کہ ہمارا ملک عظیم تر اور فیاض تر ثابت ہو۔اور برطانیہ کی سابقہ غلط کاریوں لوٹ کھسوٹ ، تعصب اور ہندوستان کو آزادی عطا کرنے سے قاصر رہنے کے باوجود ہندوستان یک زبان ہو کر کہدے کہ اس خطرے کے پیش نظر جو ساری انسانیت کو لاحق ہو گیا ہے۔وہ ماضی کی تمام شکایات کو محو کر دے گا اور اس جنگ میں پوری پوری امداد دے گا اور اس میں انتہائی فیاضی سے حصہ لے گا۔میں ستیہ مورتی صاحب کی اس رائے سے متفق ہوں کہ اپنے تمام نقائص کے باوجود انگریز ایک شائستہ قوم ہیں۔مجھے یقین ہے کہ ہم آزادی کی چوکھٹ پر پہنچ گئے ہیں۔اور آزادی کی خلعت ہندوستان کے پہننے کے لئے تیار ہو چکی ہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ انسانیت کے لئے ایسے نازک ترین موقعہ پر ہم اپنے فرائض کو بوجوہ احسن انجام دے کر اس خلعت آزادی کو پہننے کی پوری پوری اہلیت ثابت کر دیں گے۔آخر پر آپ نے فرمایا کہ اب تک میں نے اس مسئلہ کے مادی پہلو پر بحث کی ہے۔لیکن ضروری ہے کہ میں اس کے ایک دوسرے اور زیادہ بنیادی پہلو کی طرف توجہ منعطف کراؤں۔وہ تمام وسیع مسائل۔۔۔۔وسائل۔۔۔۔جو اس وقت نوع انسان کی تکالیف کو کم کرنے اور ان کی مسرتوں کو بڑھانے کے لئے موجود ہیں اس کی تباہی پر صرف کئے جار ہے ہیں۔میرے عقیدے کی رو سے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے دلوں سے خدا کو خارج کر دیا ہے۔اور اس کی جگہ جھوٹے خدا بٹھا لئے ہیں، اور اپنے قلوب میں غرور سرکشی ، لالچ وغیرہ برے مقاصد کو جگہ دی ہے۔خدا ناراض ہوکر بداعمالیوں کی سزا دیتا ہے۔تشدد اور تباہی کی دستبرد سے نجات حاصل کر کے امن واخوت کے راستے پر دوبارہ