اصحاب احمد (جلد 11) — Page 271
271 گامزن ہونے کا صرف یہ واحد ذریعہ ہے کہ حقیقی خدا ہمارے دلوں میں پھر جلوہ گر ہو جائے۔اور ان جھوٹے خداؤں اور برے خیالات سے اپنے دلوں کو پاک کر لیں۔اسلحہ کے ذریعہ حملہ آور کو پسپا کر کے نوع انسان کو تو بچایا جا سکتا ہے۔لیکن اس کی روح کو پاک نہیں کیا جاسکتا۔مصیبت زدہ لوگوں کو روحانی حفاظت کے زیر سایہ لانا ضروری ہے۔جس کی بنیاد بلند تر اخلاقی صفات پر ہو۔ہم اپنے کو خدا کی مرضی پر چھوڑ دیں تو اس مقصد کی تکمیل ہو سکتی ہے۔ہمیں انسانی پیدائش کا مقصد معلوم کرنا چاہیے۔یہ مقصد صرف عاجزی اور خلوص کے ساتھ دعا کرنے سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔یقین رکھئے آج بھی خدا تعالی دعاؤں کو زمانہ سابق کی طرح سنتا ہے۔ضرورت ہے کہ ہم اپنے دل کے کانوں سے اس کا پیغام سنیں کہ جو لوگ میری تلاش میں جدو جہد کرتے ہیں میں انہیں اپنے راستے دکھا دیتا ہوں۔( وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا - عنبوت : ۶۹) پس جب تمہیں میری رہنمائی حاصل ہو جائے تو اس کی پیروی کرو۔اس طرح تمہارے لئے کوئی خوف اور رنج باقی نہیں رہے گا۔(فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِّنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ البقرة : ٣٩) اور اے پیغمبر! جب میرے بندے تمہارے پاس آئیں ، اور تم سے میرے متعلق دریافت کریں ، تو کہدو، کہ میں ان سے قریب ہوں۔میں ہر شخص کی فریا دسنتا ہوں ، جو مجھ سے فریاد کرتا ہے۔پس انہیں چاہیئے کہ اپنے دلوں کو میری طرف متوجہ کریں اور مجھ ہی پر یقین رکھیں تا کہ ان کی رہنمائی صحیح راستے کی طرف ہو۔( وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِنِ قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَحِبُوْا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ البقرة : ۱۸۷) میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے۔(كَتَبَ اللهُ لَأَغْلِبَنَ اَنَا وَ رُسُلِی۔المجادلہ:۲۲) اگر سمت مخالف کے معزز ارکان میرے ساتھ اتفاق کریں گے۔تو ان کے اور ہندوستان کے لئے بہتر ہوگا۔ورنہ میں کہوں گا کہ اگر تم نیکی کرو گے تو وہ تمہارے لئے ہے۔اور اگر برائی کرو گے ، تو وہ بھی تمہارے لئے ہے۔( إِنْ أَحْسَنُتُمُ أَحْسَنْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا - بنی اسرائیل: ۸ ) میں اپنے عمل کا ذمہ دار ہوں اور تم اپنے عمل کے (فَقُل لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ - يونس : ۴۲) اور میرے الفاظ یہ ہیں۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِين - * ( الفضل ۱۸-۱۹-۱۴٫۲۱؍ دسمبر ۱۹۴۰ء)۔(۹) مولانا عبدالماجد صاحب دریا بادی ہفت روزہ صدق جدید لکھنو کی اشاعت ۵۲-۶-۲ میں لکھتے ہیں :