اصحاب احمد (جلد 11) — Page 252
252 صفحات میں اعلیٰ طبقہ میں تبلیغ کا بھی ذکر ہے۔پھر بھی یہاں مزید بیان خالی از فائدہ نہ ہوگا۔(۱) آپ کے زیر اثر ڈاکٹر علامہ سر محمد اقبال و دیگر لیڈران مسجد فضل لنڈن تشریف لے گئے۔اور علامہ موصوف کے برادر اکبر شیخ عطا محمد صاحب مرحوم نے آپ کی تحریک پر خلافت ثانیہ کی بیعت کی۔اعلیٰ طبقہ میں تبلیغ کے بعض مواقع کا ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے۔(۲) بوڈا پسٹ (ہنگری ) ۲۱/۸/۳۷ کو آپ وہاں پہنچے۔اخبارات نے جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیا ، جن کے باعث ان کے ملک میں ایسی شخصیت وارد ہوئی۔جوان کے ملک وقوم کی عزت افزائی کا موجب ہوئی۔احمدی احباب آپ کے جائے قیام پر آپ سے ملاقی ہوئے آپ کی بے تکلفانہ گفتگو سے بہت متاثر ہوئے۔ایک بزرگ گل بابا نے ہنگری میں اشاعت اسلام کے لئے زندگی صرف کر دی تھی۔آپ نے ان کے مزار پر احمدیت کی ترقی کے لئے دعا کی۔مفتی ہنگری کو تبلیغ کی۔جنہوں نے مسلمانوں کی ابتر حالت کو تسلیم کیا۔چار روزہ قیام میں چوہدری صاحب نے شیخ عطاء محمد صاحب کی بیعت کے لئے دیکھئے (الفضل ۱۰/۴/۳۴ ص۲) اس مرحلہ پر علامہ اقبال کے متعلق چند حقائق کا منظر عام پر لانا نا مناسب نہ ہوگا۔احمدیت کے تعلق میں ان کی زندگی تین حصوں میں منقسم کی جاسکتی ہے۔اول جب علامہ موصوف حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام کے عقیدت مند تھے۔دوم جب آپ جماعت احمدیہ کے مداح تھے۔سوم جب آپ جماعت احمدیہ کے شدید مخالف ہو گئے۔میں آئندہ سطور میں مولانا عبدالمجید صاحب سالک مرحوم جیسے قابل اور مستند ادیب کی تالیف ” ذکر اقبال“ سے اشتہاد کروں گا۔جو سالک صاحب نے بزم اقبال کی درخواست پر ۱۹۵۵ء میں تیار کی تھی۔لیکن اس امر کا بیان کرنا ضروری ہے کہ گومولانا سالک کے والدین مرحومین جماعت احمدیہ قادیان سے وابستہ تھے اور آپ کے بھائی بھی وابستہ ہیں۔اور ابتداء میں والد ماجد کے زیر اثر آپ بھی جماعت میں شامل ہوں گے۔لیکن آپ کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا سیاست بن گیا۔اس لئے نہ آپ احمدی کہلاتے تھے نہ عملاً جماعت احمدیہ میں شامل تھے۔البتہ جماعت احمدیہ کے مداح تھے۔اور حضرت امام جماعت احمدیہ کی سیاسی بصیرت کے قائل تھے۔البتہ جماعتی وابستگی نہ ہونے کے باعث بھی احمدیت کے متعلق آپ کے قلم سے بعض لطائف درج کتاب ہوئے ہیں ( یعنی صفحات ۲۸۴ و ۲۸۵) لیکن چونکہ علامہ موصوف سے تعلقات زیادہ گہرے تھے۔روز کی ملاقات تھی ، ہم جلیس تھے ،اسلئے ”ذکر اقبال میں مولانا نے