اصحاب احمد (جلد 11) — Page 251
251 ان شاندار خدمات کا تذکرہ کیا جو وزیر اعظم موصوف نے ملک کی ترقی و بہبود کے لئے حصول آزادی سے قبل کیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔خاص اس تقریب میں شمولیت کے لئے عرب جمہوریہ کے سفیر، عالمی عدالت کے ایک حج ، پاکستانی سفارتخانہ کے کونسلر اور حکومت انڈونیشیا کا نمائیند ہ شامل ہوئے۔جناب ٹنکو صاحب کو انگریزی قرآن مجید پیش کیا گیا۔( الفضل ۱۲/۶/۶۰) (۷) ہند و پاکستان یہاں بھی آپ کو خوب تبلیغ کے مواقع حاصل ہوئے۔علاوہ ازیں خصوصاً مقامی تبلیغ کی مہم میں مالی ولسانی خدمات کی توفیق عطا ہوئی۔* (۹) اعلیٰ طبقہ میں تبلیغ تبلیغ و تربیت کے لئے عام طبقہ کے علاوہ اعلیٰ طبقہ کی طرف آپ نے ہمیشہ خاص توجہ دی ہے۔اس لئے کہ اس طبقہ کے لوگ اپنے ہم پلہ افراد کے بغیر کسی سے کلمہ خیر سننا پسند نہیں کرتے۔گو سابقہ (۱) منٹگمری کے بعض احمدی احباب نے چوہدری صاحب کے اعزاز میں دعوت چائے دی اور ہندو شرفاء کو بھی مدعو کیا۔چوہدری صاحب نے مختصر ابتایا کہ احمدیت کسی کے مذہبی اصولوں میں رخنہ اندازی کا نام نہیں بلکہ اس کا اصول یہ ہے تو حید الہی کو مانتے ہوئے اس امر کا بھی اعتراف کیا جائے کہ اللہ تعالی نبی بھیجتا ہے جو اس کا قرب حاصل کرنے میں میری رہنمائی کرے۔اور اس زمانہ کے نبی حضرت مرزا صاحب ہیں۔ان کا مذہب تو حید الہی ہے۔اس کی روئیداد ہندو اخبار ہمدردمنٹگمری نے شائع کی۔(الفضل ۲۸/۴/۳۴) (۲) آپ نے دہلی میں عید پڑھائی اور جوبلی فنڈ کی تحریک بھی کی۔(الفضل ۸/۱۲/۳۷) (۳) عربک کالج دہلی میں آپ کی صدارت میں پیشوایان مذاہب کا جلسہ منعقد ہوا۔(۱۶/۱۱/۴۳/۱) (۴) ملٹری سیکرٹری سرکار پٹیالہ نے جماعت احمدیہ کو مطلع کیا کہ چوہدری صاحب ۱۰٫۱۲٫۴۳ کو پٹیالہ آرہے ہیں اور انہوں نے بذریعہ تار اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ جماعت کے ہمراہ جمعہ ادا کریں گے چنانہ سامانہ ،سنور اور نا بھہ کے احباب کو اطلاع دی گئی اور وہ آکر شریک ہوئے۔احباب کی درخواست پر آپ نے خطبہ دیا اور جمعہ کی نماز پڑھائی۔(۱۵/۱۲/۳۳)