اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 216 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 216

216 (۱۳) تحریک وقف جائداد میں آپ نے ساری جائیداد وقف کر دی۔*** بقیہ حاشیہ نے چندہ دینا شروع کر دیا ہے اور اس بات کا انتظار نہ کیا کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔مجھ پر جو اس وقت وجد کی حالت طاری ہوئی اور میں سجدہ میں گر گیا ، وہ حضور علیہ السلام کے زمانہ اور بعد کے زمانہ کے حالات کا فرق اس کا باعث تھا۔چونکہ جلسہ سالانہ پر بیس پچیس ہزار آدمی جمع ہوتے ہیں۔اس لئے ہم ایسا ہال یا شیڈ بنائیں جسمیں کم از کم ایک لاکھ افرا دسما سکیں۔حضور علیہ السلام نے اپنی اولاد کے متعلق فرمایا کہ اک سے ہزار ہو دیں اور نبی کی اولا داس کی جماعت بھی ہوتی ہے۔اس لئے ایک سو کو ایک ہزار سے ضرب دینے سے ایک لاکھ بنتا ہے۔گو کچھ عرصہ بعد لوگ اسے بیوقوفی قرار دیں گے اور کہیں گے کہ دس لاکھ کے لئے جگہ بنانی چاہیئے تھی۔فی الحال اس کام کے لئے پانچ سال میں دولاکھ روپیہ طوعی طور پر جمع ہونا چاہیئے۔اس پر حضرت سیٹھ اسمعیل آدم صاحب مرحوم نے اپنا ۱۹۰۰ء کا رؤیا سنایا جو انہوں نے خطبہ الہامیہ قادیان میں سننے کے بعد بمبئی جا کر دیکھا تھا کہ حضور علیہ السلام ایک بڑے ہال میں جس میں ایک لاکھ آدمی سما سکتے ہیں تقریر فرمارہے ہیں اور مجھے دروازہ پر آنے والے احباب کے استقبال کے لئے کھڑا کیا گیا ہے۔اس کثرت سے احباب نے چندہ کے لئے نام پیش کرنے شروع کر دئیے کہ بہت شور پیدا ہو گیا اور حضور نے کئی افراد نام لکھنے کے لئے مقر کر دئے۔اس دوران میں حضور نے اعلان فرمایا کہ میں اپنی طرف سے ، اپنے خاندان کی طرف سے۔چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب اور ان کے دوستوں اور سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کے خاندان کی طرف سے یہ اعلان کرتا ہوں۔کہ بیرونی جماعتوں کو اس چندہ میں شرکت کا موقعہ دینے کے بعد دولاکھ روپیہ میں جو کمی رہے گی وہ ہم پوری کر دیں گے۔فہرست مکمل ہونے پر حضور نے اعلان فرمایا کہ دولاکھ بائیس ہزار سات صد چونسٹھ روپے اس کی میزان ہے۔اور یہ کہ کر کہ یہ سجدہ شکر ہے پھر سجدہ کیا اور تمام مجمع بھی سربسجو د ہو گیا۔بہت رقت سے دعائیں ہوئیں۔سجدہ سے اٹھ کر فرمایا۔کہ بعض مواقع پر بولنے سے خاموشی زیادہ اچھی ہوتی ہے۔اس لئے میں اس جلسہ کو اللہ تعالیٰ کے نام پرختم کرتا ہوں۔“ (رپورٹ مشاورت بابت ۱۹۴۵ء صفحه ۳ ۱۵ تا ۱۶۰) بعد میں ایک ماہ کے اندر نقد اور وعدوں کی میزان ایک لاکھ بتیس ہزار ہوگئی اور حضور نے اس تحریک کو پچیس لاکھ تک بڑھا دیا۔رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمد یہ بابت ۱۹۴۴ء، ۱۹۴۵ء صفحه ۳۲) رپورٹ سالانہ میں یہ مندرجہ رپورٹ بیت المال ۲۴/۹/۴۵ کی ہے۔اس وقت تک اس مد میں قریباً ساڑھے بارہ ہزار روپے وصول ہو چکے تھے۔( ص ۲۷و۳۳)