اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 187 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 187

187 ماہر تاریخ عوام کی غلط فہمیاں دور کر دیں گے اور یہ فتنہ نہ بڑھے گا۔لیکن اخبارات سے معلوم ہوا کہ ہر دو علماء وغیرہ نے ایک جلسہ کر کے چوہدری صاحب کو وزارت خارجہ سے الگ کر دینے کا مطالبہ کیا۔اس خبر سے میرا دل پاش پاش ہو گیا۔مولانا بدایونی کو میں نے سفارش کر کے نظر بندی سے رہا کروایا تھا اور سید سلیمان ندوی جو مسلمان ہندو پاک کے نزدیک سب سے زیادہ تاریخ کے نیک و بد کے نتائج سے واقف ہیں جس پر دوسرے مؤرخ کی نظر نہیں جاتی۔میں پچاس برس سے اخبار نویسی کرتا ہوں۔اور لوگوں کے رجحانات سمجھتا ہوں۔اس خبر کو پڑھ کر بے اختیار میری زبان سے نکلا کہ یہ خبر غلط ہے۔یہ دونوں مولا نا کبھی ایسی بے عقلی کا کام نہیں کر سکتے لیکن اب تک اخبارات اور ریڈیو پر اس کی تردید نہیں ہوئی۔اگر سچ مچ ان علماء نے ایسا جلسہ کیا تھا تو مجھے خدا تعالیٰ کے سامنے سجدے میں گر کر اور رو رو کر دعا کرنی چاہیئے کہ وہ علماء مذکور کو اس غلط طرز عمل سے بچائے یا مجھ کو اس دنیا سے جلد اٹھالے تا میں مسلمانوں کی اور پاکستان کی تباہی نہ دیکھوں جو ایسے غلط کاموں سے ہونی ضروری ہے۔یہ مخالفت جس قدر شر انگیز اور امتِ مسلمہ کے لئے نقصان دہ تھی۔اس کی مخالفت مولانا غلام رسول مہر ایڈیٹرا نقلاب لاہور نے ۱۹۳۵ء میں بھی کی تھی۔وہ تحریر فرماتے ہیں : و مجلس احرار اسلام محض انتخابات کے لئے تنظیم کی خاطر جماعت احمدیہ کی مخالفت کر رہی ہے۔اس وقت حکومت یا ہنود کے خلاف مخالفت کا کوئی موقعہ نہ تھا۔اور تنظیم کے لئے ہنگامہ درکار تھا۔جماعت احمدیہ کے خلاف ہنگامہ سے خطرہ کم تھا۔غیر مسلم کی تائید بھی ان کے شامل تھی۔اور بعض وجوہ سے حکومت بھی جماعت کے خلاف تھی اور روپیہ بھی زیادہ وصول ہونے کی توقع تھی تو قعات پوری ہوئیں ، نقصان ذرہ بھر نہ ہوا۔ایک صاحب جو ایک تقریر کی بناء پر ماخوذ ہوئے تو ان کو پندرہ منٹ کی مضحکہ خیز سزادی گئی جس سے ایسی تقریروں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔جو لوگ مسلمانوں کے سیاسی مصالح کی حفاظت چاہتے ہیں۔وہ اس مخالفت احمدیت سے مضطرب ہوئے۔کیونکہ اس سے اتحاد بین المسلمین کو نقصان پہنچے گا۔اب جا بجا احمدیوں کو علیحدہ اقلیت قرار دینے کا مطالبہ قرار دادوں کی صورت میں ہونے لگا۔ہمارے نزدیک یہ سب سے بڑی سیاسی حماقت ہے جس کی آئینی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ہمیشہ اقلیت علیحدگی کا مطالبہ کیا کرتی ہیں۔لیکن احمدیوں کی سیاسی دانشمندی کی داد دینی چاہیئے کہ انہوں نے علیحدگی کا مطالبہ نہیں کیا۔گاندھی جی وغیرہ نے اچھوتوں تک کو گلے لگا یا محض