اصحاب احمد (جلد 11) — Page 186
186 وو تعصب کا نتیجہ ہے۔انگریزی اخبار ”سٹار“ مورخه ۱۲۳/۸/۵۲ان غیر معقول حرکات کے خلاف یوں احتجاج کرتا ہے، کہ اگر آج احمدیوں کو اقلیت قرار دیا جائے ، تو کل کلاں دیگر فرقے کب محفوظ رہیں گے۔ان پُر تعصب حرکات کے باعث کیا دنیا ہمیں بیوقوف اور مذہبی دیوانے نہ سمجھے گی ؟ کیا ہم نے کبھی یہ سوچنے کی کوشش کی ہے کہ اگر ہم چوہدری صاحب کو وزارتِ خارجہ سے فی الفور علیحدہ کر دیں تو مشرق وسطی اور مغرب کے ممالک میں اس کا کیا ردعمل ہوگا۔اس کے بین الاقوامی نتائج کے متعلق ہم کو کسی خوش فہمی میں مبتلا ء نہیں رہنا چاہیئے۔انگلستان کی مسلم لیگ نے وزیر اعظم پاکستان سے بذریعہ برقیہ رابطہ پیدا کر کے اس توقع کا اظہار کیا کہ پاکستان میں فرقہ ورانہ منافرت پھیلانے والے عنا صر کو کچل دیائے گا۔روز نامہ سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور رقمطراز ہے کہ چوہدری صاحب کی پیش کردہ تجویز کے مطابق اسلامی ممالک کے وزراء اعظم کے مابین صلاح و مشورہ کا نظام قائم کر دیا جائے تو تمام کو بالآخر اس سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔اور اسی کی مخالفت کی خاطر بعض ممالک عرب ممالک کے ساتھ انشقاق پیدا کرنے میں کوشاں ہیں اور اور یہ کہہ رہے ہیں کہ برطانوی مفادات کو تقویت دی جارہی ہے ردِ قادیانیت کی مہم جود یکھتے ہی دیکھتے اس طرح بھڑک اٹھی ہے کہ گویا یہ ساٹھ سالہ پرانی مذہبی تحریک احمدیت اچانک آج ہی معرض وجود میں آئی ہے۔اس مخالفت کا مذہبی پہلو خواہ کچھ ہو۔اس نئی مہم کی تہہ میں خالصہ سیاسی مقصد کارفرما ہے اور اس نے دنیائے اسلام کے استحکام کے لئے شدید خطرہ پیدا کر دیا ہے۔اگر فرقہ وارانہ اختلافات کے طوفان کو ایک دفعہ راہ پانے کی اجازت دی گئی تو پھر یہ طوفان رو کے بھی نہیں رک سکے گا۔جناب خواجہ حسن نظامی صاحب رقم فرماتے ہیں کہ میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ جماعت احمد یہ کراچی کے خلاف ہنگامہ مصلحت وقت کے خلاف تھا۔گو میں عقائد احمد یہ سے متفق نہیں لیکن یہ وقت ایسے اختلافات کو نظر انداز کرنے کا ہے۔چوہدری صاحب نے باوجود قادیانی ہونے کے پاکستان بننے کے بعد سے آج تک جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ بے مثال ہیں۔اگر پاکستان کے تخت گاہ کراچی میں مسلمان ان کی مخالفت کریں گے تو امریکہ اور یورپ اور اسلامی ممالک سے پاکستان کا وقار جاتا رہے گا۔مجھے یقین تھا کہ مولانا عبد الحامد بدایونی اور سید سلیمان ندوی جیسے معاملہ فہم اور