اصحاب احمد (جلد 11) — Page 185
185 ۹۵ کرتا ہے۔اخبار ”زمیندار اپنے کمزور اور جنونی دلائل سے اپنی ” ظفر اللہ دشمنی کے لئے مشہور ہو چکا ہے۔احمدیت کی مخالفت وہ برسوں سے کر رہا ہے اور اس اخبار کا ادارتی شعور سالہا سال سے اس مخالفت کی وجہ سے خود ایک ایسی جنونی کیفیت کا شکار ہو کر رہ گیا ہے کہ شائد وہ ان تمام مصری اخبارات کو بھی گالیاں دینے پر اتر آئے جنہوں نے چوہدری صاحب کی تعریف کی ہے۔اس نے جو چوہدری صاحب کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ وہ احمدیت کے لئے جذ بہ نفرت سے مغلوب ہے اور چوہدری صاحب کی اسلامی خدمات اس کی نظر میں بے معنی ہیں۔ہفت روزہ ” چاشی ڈھا کہ رقمطراز ہے کہ سر محمد ظفر اللہ خان قائد اعظم کے جاں نثار ساتھی ، قائد ملت کے نائب اور پاکستان کے بے لوث خدمات گزار ہیں۔یہ مضبوط قوت فیصلہ اور بے داغ شخصیت کے مالک ، صاحب بصیرت اور وسیع النظر آدمی ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ ان کو وزارت سے نکالنے کی خطرناک سازش ہو رہی ہے۔قائد ملت کی وفات کے بعد کا بینہ کے بعض ممبر چوہدری صاحب کو وزارت عظمیٰ کا قلمدان پیش کرنا چاہتے تھے۔لیکن حاسدوں کی نظر میں یہی بات خوف و ہر اس کا باعث بن گئی۔اب یہ سازش اپنے کمال کو پہنچ گئی ہے۔جماعت احمدیہ کو اقلیت قرار دینے اور چوہدری صاحب کو وزارت سے علیحدہ کرنے کا مطالبہ غیر مسلم اقلیتوں اور دوسرے مہذب ممالک پر کیا اثر پڑے گا۔اخبار ”مسلمان “ کراچی لکھتا ہے : ہمیں یاد ہے موصوف اور موجودہ گورنر جنرل ایسے اشخاص ہیں جن کے تدبر و معاملہ فہمی اور کارکردگی پر خود قائد اعظم کو بھی فخر رہا ہے۔جس کو ان کی زندگی کی ساری کامرانیوں ، مسرتوں اور شاد کامیوں کا شاہکار کہا جاسکتا ہے۔“ وزارت خارجہ سے چوہدری ظفر اللہ کی علیحدگی ایک داخلی مسئلہ ہے جو خارجی مسئلہ بنے بغیر نہیں رہے گی۔یہی نہیں بلکہ خارجی عوامل کی اثر اندازی ، ہمہ گیری ،ہمیں کسی مہیب خطرہ سے بھی دو چار کر دے گی۔یہی ایک بنیادی وجہ رہی ہے۔(کہ) ہم نے سیاسی پاگلوں کی طرح۔۔۔چو ہدری ظفر اللہ کی علیحدگی کا مطالبہ نہیں کیا۔روز نامہ حقیقت سیالکوٹ نے ۲۲ رمئی کی اشاعت میں کراچی میں اور اس سے قبل سیالکوٹ میں جماعت احمدیہ کے جلسوں کو منعقد نہ ہونے دینے پر اظہار تاسف کرتے ہوئے لکھا کہ یہ مذہبی