اصحاب احمد (جلد 11) — Page 164
164 کہتیں کہ میری بات کا صحیح صحیح تر جمہ کرو۔محترم چوہدری مشتاق احمد صاحب با جوه سابق امام مسجد لندن و وکیل الزراعة تحریک جدید رقم فرماتے ہیں کہ ۱۹۳۷ء میں آپ تبلیغ کے لئے ڈسکہ کے علاقہ میں پہنچے۔آپ کو خوش آمدید کہنے والوں میں محترمہ والدہ صاحبہ چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب بھی تھیں۔آپ بیان کرتے ہیں: چونکہ میں نے اپنی کمر نا تو اں تبلیغ کے بارگراں کے نیچے دیتی محسوس کی۔اس عالم گھبراہٹ میں۔اللہ تعالیٰ سے استقلال کی دعا کی۔اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ہے کہ اس نے میری پکار کو سنا اور اس کی رحمت مجسم ہو کر حضرت پھوپھی صاحبہ کے وجود میں جلوہ گر ہوئی۔گھر پہنچنے پر حضرت پھوپھی صاحبہ نے سارے حالات کامل اشتیاق سے سنے اور بڑی محبت اور پیار سے دعائیں دیں۔اس کا میری طبیعت پر ایسا خوشگوار اثر ہوا کہ میں عموماً ہر روز شام کو آپ کے پلنگ کی پاسکتی آ بیٹھتا۔آپ کی تسلی آمیز گفتگو سے جوش تبلیغ بڑھتا اور میری ہمتوں اور عزائم میں بلندی پیدا ہوتی۔بعض متشد د مخالفین کی ترش روئی اور بد زبانی کا ذکر کرتا تو آپ صبر کی تلقین فرماتیں۔اپنے رویا اور کشوف سنا کر میرے ایمان و عرفان کو تازگی بخشتیں اور میں اللہ تعالیٰ کے اس فضل کا ملا حظہ کر کے جوامی ہونے کے باوجود آپ پر تھا۔میرا کم علمی کا تکلیف دہ احساس کم ہو جاتا اور تو کل علی اللہ بڑھتا۔آپ کو احمدیت سے از حدا خلاص تھا۔آپ اپنے رویا اور کشوف کے باعث سلسلہ کی صداقت پر حق الیقین رکھتی تھیں۔اور یہی وجہ تھی کہ آپ کے قلب میں اس کے لئے ازحد محبت موجزن تھی۔اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ، نماز میں ، باتوں باتوں میں ترقی سلسلہ کے لئے بارگاہ ایزدی میں دعا ئیں فرماتی رہتیں۔میں نے کئی دفعہ دورانِ گفتگو میں آپ کی زبان مبارک سے سلسلہ کی ترقی اور دشمنوں کی ہدایت یابی کے لئے دعائیں سنیں۔حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ ، حضرت ام المؤمنین مدظلہ العالی ، اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کی محبت درجۂ عشق تک پہنچی ہوئی تھی۔آپ نے مجھے بتایا کہ ان کا کوئی سجدہ خالی نہیں جاتا جس میں وہ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے لئے دعا نہ فرماتی ہوں۔مزید بیان کرتے ہیں کہ ایک اور موقعہ پر لارڈ ولنگڈن نے والدہ صاحبہ سے دریافت کیا کہ کیا ایک ملک کی حکومت کا انتظام زیادہ آسان ہے یا ایک گھر کا انتظام ؟ والدہ صاحبہ نے جواب دیا۔دونوں میں سے جس کو اللہ تعالیٰ زیادہ آسان کر دے۔وائسرائے کو اس جواب سے بہت تعجب ہوا۔